اسلام آباد: 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ آئین کے مطابق قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ترمیم کے حق میں ارکان کی منظوری علیحدہ علیحدہ حاصل کرنا ضروری ہے۔ موجودہ ایوانی صورتحال کے مطابق آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں کم از کم 224 اور سینیٹ میں 64 ارکان کے ووٹ درکار ہوں گے۔
سینیٹ کی موجودہ پارٹی پوزیشن
سینیٹ میں حکومتی بینچز پر:
ارکان کی تعداد
پیپلز پارٹی
26
مسلم لیگ (ن)
20
بلوچستان عوامی پارٹی
4
ایم کیو ایم پاکستان
3
نیشنل پارٹی
1
مسلم لیگ (ق)
1
آزاد سینیٹرز (عبدالکریم، عبدالقادر، محسن نقوی
3
اس طرح حکومتی صفوں میں مجموعی طور پر 58 ارکان موجود ہیں۔
مزید تین سینیٹرز— انوار الحق کاکڑ، اسد قاسم اور فیصل واوڈا—کسی بھی بینچ سے منسلک نہیں لیکن اکثر حکومتی پوزیشن کی حمایت کرتے ہیں، جس کے بعد سینیٹ میں حکومت کو 61 ارکان کی حمایت میسر ہو سکتی ہے۔
ان سینیٹرز کی ممکنہ حمایت
اپوزیشن بینچز پر موجود:
• آزاد سینیٹر نسیمہ احسان
• اے این پی کے 3 سینیٹرز
بھی ماضی میں آئینی ترمیم (26 ویں ترمیم) میں حکومت کا ساتھ دے چکے ہیں۔ اگر یہی حمایت برقرار رہی تو حکومت کو سینیٹ میں 65 ووٹس مل سکتے ہیں، جو آئینی ترمیم کی منظوری کے لیے مطلوبہ تعداد 64 سے 1 ووٹ زیادہ ہے۔
سینیٹ میں اپوزیشن کی پوزیشن
اپوزیشن بینچز پر:
جماعت
ارکان
تحریک انصاف
14
تحریک انصاف حمایت یافتہ آزاد ارکان
6
جمعیت علماء اسلام (ف)
7
مجلس وحدت مسلمین
1
سنی اتحاد کونسل
1
(ایک پی ٹی آئی حمایت یافتہ سینیٹر اور ایک مراد سعید نے ابھی حلف نہیں اٹھایا)
اپوزیشن بینچز پر 30 ارکان موجود ہیں جو ممکنہ طور پر مجوزہ ترمیم کی مخالفت کریں گے۔
سیاسی پس منظر
یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی ہے اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق یہ ترمیم آج سینیٹ میں پیش کی جا رہی ہے۔