پشاور میں بم ڈسپوزل یونٹ (بی ڈی یو) نے فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز پر ہونے والے خودکش حملے کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی، جس میں حملے کی نوعیت، استعمال ہونے والا بارودی مواد اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے خودکش جیکٹس میں 20 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا، جو آگے اور پیچھے دو حصوں میں تقسیم تھا۔ جیکٹس کے ٹکڑوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دھماکے کی تباہی کی حد 30 میٹر تک ہوسکتی تھی۔
بی ڈی یو نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دھماکے خودکش نوعیت کے تھے اور جائے وقوعہ سے ریموٹ کنٹرول کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ٹیم نے شواہد اکٹھے کرتے ہوئے موقع سے 8 دستی بم، 2 ملی میٹر سائز کے بال بیرنگ اور 2 فٹ پرائما کارڈ بھی برآمد کیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ منظم منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا، تاہم سیکیورٹی فورسز کی بروقت جوابی کارروائی سے مزید بڑے جانی نقصان سے بچا گیا۔
بی ڈی یو کے مطابق 24 نومبر کو ہونے والے اس حملے میں ایف سی کے 3 جوان شہید ہوئے جبکہ 5 اہلکار زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 8 شہری بھی زخمی ہوئے تھے.