اسلام آباد ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ بند کرنے سے متعلق درخواست 21 جنوری کو سماعت کے لیے مقرر کر دی۔
عدالت نے اس حوالے سے نیشنل سائبر کرائم کنٹرول ایجنسی (این سی سی آئی اے)، پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)، بانی پی ٹی آئی اور پاکستان تحریک انصاف کو جواب جمع کرانے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
یہ حکم اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے شہری غلام مرتضیٰ کی درخواست پر گزشتہ سماعت کے تحریری حکمنامے میں دیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ جیل میں قید سزا یافتہ قیدی کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے کی جانے والی پوسٹس غیر قانونی، انتشاری اور بدنیتی پر مبنی ہیں، جنہیں فوری طور پر ہٹایا جائے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ این سی سی آئی اے اور پی ٹی اے کو تحقیقات کا حکم دیا جائے تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ جیل میں قید کے دوران بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ کون چلا رہا ہے۔ درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ان مبینہ مجرمانہ اور غیر قانونی پوسٹس کو بلاک کیا جائے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانے کے احکامات دیے جائیں۔
عدالتی نوٹس کے جواب میں سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے بانی پی ٹی آئی کے ایکس اکاؤنٹ کے جیل سے آپریٹ ہونے کی واضح تردید کی۔ جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کا ایکس اکاؤنٹ جیل سے نہیں بلکہ جیل کے باہر سے کوئی فرد چلا رہا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے مطابق بانی پی ٹی آئی کو جیل کے اندر موبائل فون یا انٹرنیٹ کی سہولت حاصل نہیں، اور انہیں صرف جیل رولز یا عدالتی احکامات کے تحت محدود سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ جیل قوانین کے تحت موبائل فون یا کسی بھی ممنوعہ شے کی اجازت نہیں، جبکہ اڈیالہ جیل میں موبائل سگنلز جام کرنے کے لیے جیمرز بھی نصب ہیں جو جیل اور اس کے ملحقہ علاقوں میں سگنلز کو بلاک رکھتے ہیں۔
جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ جیل رول 265 کے تحت قیدی کو سیاسی گفتگو کی اجازت نہیں۔ تاہم، جیل ٹرائل کے دوران ملاقات کے لیے آنے والے بعض افراد قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی گفتگو کرتے ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی جانب سے ماضی میں جیل سے دی گئی ہدایات معاشرے میں تشدد کو ہوا دینے کا باعث بنیں۔
سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل نے یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی سخت نگرانی میں ہیں، اور ان سمیت جیل میں تعینات عملے کی باقاعدہ تلاشی لی جاتی ہے تاکہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو روکا جا سکے۔
عدالت اس معاملے پر 21 جنوری کو فریقین کے جوابات کی روشنی میں مزید سماعت کرے گی۔