کراچی: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کا اصل مشن کراچی کو موئن جو دڑو میں تبدیل کرنا ہے، جبکہ شہر کو جان بوجھ کر تباہی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک کے چاروں صوبوں میں گورننس کا شدید بحران ہے، تاہم کراچی کا پنجاب سے موازنہ درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں فنڈز کی فراہمی کے تناسب سے کارکردگی کا جائزہ لیا جانا چاہیے، جبکہ سندھ کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور پنجاب میں بھی کوئی دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ رہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کی مجموعی صورتحال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے اور پیپلز پارٹی حقائق کے برعکس بیانات دے رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ پیپلز پارٹی جب وفاق میں اقتدار میں تھی تو کے فور منصوبے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ اب بھی پیپلز پارٹی وفاق کا حصہ ہے، لیکن اس کے باوجود کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے سندھ حکومت نے اپنے حصے کا کام مکمل نہیں کیا۔
امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کراچی کے تقریباً 3 ہزار 400 ارب روپے ہڑپ کر چکی ہے، جبکہ کے فور منصوبے پر سابق میئر نعمت اللہ خان کے دور میں کام شروع ہوا تھا، لیکن 21 سال گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ آج تک مکمل نہیں ہو سکا۔
ٹرانسپورٹ کے مسائل پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی کو کم از کم 15 ہزار بسوں کی ضرورت ہے، لیکن کبھی 10، کبھی 20 اور کبھی 1970 کی ڈبل ڈیکر بسیں لا کر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کا نام نہاد وژن کراچی کو موئن جو دڑو بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ سے حساب مانگتے ہوئے کہا کہ وہ بتائیں کہ کراچی میں میئر شپ پر قبضہ کس نے کیا اور جعلی حکومت کس نے مسلط کی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ وسیع تر قومی مفاد کے نام پر نظام مسلط کرتے ہیں، انہیں عوام کو جواب دینا ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی پر برا وقت آتا ہے تو دونوں جماعتیں مصنوعی لڑائی شروع کر دیتی ہیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کراچی میں پیپلز پارٹی کو فارم 47 کے ذریعے مسلط کیا گیا اور یہ جماعت کراچی دشمن ہے، جسے شہر کے عوام ووٹ نہیں دیتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی آئینی ترامیم کے وقت حکومت کا ساتھ دیتی ہے، لیکن جب عوامی مسائل کی بات آتی ہے تو الزام تراشی شروع کر دیتی ہے۔ حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ کراچی منی پاکستان ہے، لیکن پیپلز پارٹی مسلسل اس شہر سے دشمنی کر رہی ہے۔