واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کو ایک بار پھر سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وینزویلا نے امریکا کے ساتھ درست رویہ اختیار نہ کیا تو اس کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بیان ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کو وینزویلا میں تیل اور دیگر قدرتی وسائل تک مکمل رسائی حاصل ہونی چاہیے، اور اگر وینزویلا نے امریکی مطالبات کو نظرانداز کیا تو امریکا دوسرا حملہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔
انہوں نے وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگز کو بھی براہِ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے درست فیصلے نہ کیے تو انہیں صدر نکولس مادورو سے بھی زیادہ بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ صدر ٹرمپ نے خطے کے دیگر ممالک کو بھی خبردار کیا کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔
کیوبا اور کولمبیا پر بھی سخت مؤقف
صدر ٹرمپ نے کیوبا سے متعلق سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کیوبا کی حکومت جلد خود ہی گرنے والی ہے اور شاید وہاں فوجی مداخلت کی ضرورت بھی پیش نہ آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا کی معیشت کا انحصار وینزویلا پر تھا، لیکن اب وہ ذریعہ بھی ختم ہو چکا ہے۔
کولمبیا کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اس وقت ملک ایک ایسے شخص کے زیرِ انتظام ہے جو کوکین بنانے اور اسے امریکا فروخت کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، تاہم وہ زیادہ عرصے تک ایسا نہیں کر پائے گا۔
جب صحافیوں نے سوال کیا کہ آیا کولمبیا کے خلاف امریکی فوجی آپریشن زیر غور ہے، تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ کولمبیا کی موجودہ حکومت کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکان کو سن کر انہیں اچھا لگا۔
میکسیکو کو بھی وارننگ
گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے میکسیکو کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر میکسیکو نے اپنا نظام درست نہ کیا تو امریکا کو کوئی نہ کوئی قدم اٹھانا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ کے ان بیانات کے بعد لاطینی امریکا میں سیاسی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر بھی ان بیانات پر ردعمل متوقع ہے۔