وینزویلا کے ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے کیے گئے حالیہ حملوں میں کم ازکم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں شہری اور فوجی اہلکار دونوں شامل ہیں۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب وینزویلا میں سیاسی اور عسکری صورتحال انتہائی کشیدہ بتائی جا رہی ہے۔
امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق وینزویلا کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ حملے ہفتے کی علی الصبح کیے گئے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ حملوں کے دوران مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں بھاری جانی نقصان ہوا۔
امریکی حکام کا محتاط مؤقف
دوسری جانب امریکی حکام نے ان حملوں میں کسی بھی قسم کی ہلاکت کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کارروائی میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا، تاہم انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ آپریشن کے دوران متعدد امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی افواج نے اپنی ذمہ داریاں پوری کیں اور تمام اہلکاروں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنایا گیا، تاہم انہوں نے آپریشن کی تفصیلات پر بات کرنے سے گریز کیا۔
ہیلی کاپٹر کارروائی اور صدر مادورو کا معاملہ
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو نکالنے کے لیے امریکی ہیلی کاپٹروں نے کارروائی کی۔ ان کے مطابق اس دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا گیا، تاہم وہ پرواز کے قابل رہا اور تمام امریکی طیارے بحفاظت واپس اپنے اڈوں پر پہنچ گئے۔
مادورو کی گرفتاری سے متعلق دعوے
یاد رہے کہ اس سے ایک روز قبل یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت سمیت مختلف مقامات پر حملے کر کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا اور انہیں نیویارک منتقل کر دیا۔ تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع یا بین الاقوامی اداروں کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔
روسی میڈیا کے دعوے
ادھر روسی میڈیا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ یہ بھی کہا گیا کہ صدر مادورو صدارتی محل چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہو گئے ہیں۔
علاقائی اور عالمی تشویش
وینزویلا کی تازہ صورتحال نے خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس کے لاطینی امریکا سمیت عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال صورتحال غیر واضح ہے اور دنیا بھر کی نظریں وینزویلا اور امریکا سے آنے والے آئندہ بیانات پر مرکوز ہیں۔