پاکستان میں سونے کی قیمت نے تمام سابقہ ریکارڈ توڑتے ہوئے تاریخی بلند ترین سطح کو چھو لیا ہے، جس کے بعد عوام اور سرمایہ کاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی مارکیٹ میں سونے کی فی تولہ قیمت میں ایک ہی روز میں 7 ہزار 700 روپے کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تازہ اضافے کے بعد ملک بھر میں فی تولہ سونا 4 لاکھ 80 ہزار 962 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 6 ہزار 602 روپے کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد 10 گرام سونا 4 لاکھ 12 ہزار 347 روپے تک جا پہنچا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی تیزی برقرار
دوسری جانب عالمی صرافہ بازار میں بھی سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 77 ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سونا 4 ہزار 586 ڈالر فی اونس پر ٹریڈ کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر قیمتوں میں اس تیزی کا براہ راست اثر پاکستانی مارکیٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔
جغرافیائی کشیدگی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ
معاشی ماہرین کے مطابق سونے کی قیمت میں اس غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، خاص طور پر ایران اور امریکا کے درمیان پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی منڈیوں میں بے یقینی کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سرمایہ کار غیر یقینی حالات میں سونے کو محفوظ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں، جس کے باعث اس کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
معاشی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں بھی اضافہ متوقع ہے، جس کا اثر پاکستان سمیت دیگر ترقی پذیر ممالک کی معیشت پر پڑ سکتا ہے۔ اگر عالمی تیل مارکیٹ متاثر ہوئی تو مقامی سطح پر مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں سونے کی قیمت میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار رہنے کا امکان ہے، جبکہ عوام کو سرمایہ کاری کے فیصلے محتاط انداز میں کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔