وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تمام آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر فوجی طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیرولین لیوٹ نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی اولین ترجیح ہمیشہ سفارتکاری اور مذاکرات رہی ہے، تاہم وہ ایسے رہنما ہیں جو قومی سلامتی کے معاملات پر سخت فیصلے کرنے سے ہچکچاتے نہیں۔ ان کے مطابق اگر صدر نے یہ طے کرلیا کہ فوجی اقدام ناگزیر ہے تو وہ اس راستے پر جانے سے دریغ نہیں کریں گے، اور ایرانی قیادت اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ آئندہ کیا حکمت عملی اختیار کریں گے، اس کا حتمی علم صرف صدر کو ہی ہے۔ ان کے بقول امریکی انتظامیہ کی جانب سے جان بوجھ کر حکمت عملی کو مبہم رکھا جا رہا ہے تاکہ سفارتی اور تزویراتی دباؤ برقرار رہے۔
کیرولین لیوٹ نے ایرانی حکومت کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تہران کی جانب سے عوامی سطح پر دیے جانے والے بیانات اور نجی طور پر امریکا کو بھیجے جانے والے پیغامات میں نمایاں تضاد پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت عوام کے سامنے ایک سخت اور مختلف مؤقف اپناتی ہے، جبکہ پس پردہ امریکا کے ساتھ رابطوں میں لہجہ اور پیغام مختلف ہوتا ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس ترجمان نے انکشاف کیا کہ ان نجی رابطوں یا پیغامات کی نوعیت اور تفصیلات اس وقت عوام کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اس بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے سخت لب و لہجہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی غیر متوقع پالیسی خطے کی صورتحال کو کسی بھی سمت لے جا سکتی ہے۔