حکومت پنجاب کے بروقت اور مربوط اقدامات کے نتیجے میں صوبے میں اسموگ کی صورتحال میں واضح بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ موسم میں تبدیلی اور حکومتی پالیسیوں کے باعث فضائی آلودگی کی سطح میں کمی واقع ہوئی ہے، جس کے بعد ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 174 کی سطح تک آ گیا ہے، جو گزشتہ دنوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایات پر ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں فضائی آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے بڑے پیمانے پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ دھواں چھوڑنے والی ٹرانسپورٹ کو موقع پر جرمانے اور بندش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اسموگ کے خاتمے کے لیے اینٹوں کے بھٹوں اور صنعتی فیکٹریوں کی کڑی نگرانی جاری ہے۔ ماحولیاتی ضوابط کی خلاف ورزی پر متعدد بھٹوں اور فیکٹریوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے، جبکہ کئی یونٹس کو جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی اپنانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔
محکمہ تحفظِ ماحولیات (ای پی اے) اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیمیں فیلڈ میں متحرک ہیں، جو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ اور جائزہ رپورٹس مرتب کر رہی ہیں تاکہ اسموگ کنٹرول اقدامات کی مؤثریت کو یقینی بنایا جا سکے۔ حکام کے مطابق مانیٹرنگ کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید آلات اور ڈیجیٹل رپورٹنگ کا نظام بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے اس موقع پر عوام سے اپیل کی ہے کہ شہری کچرا جلانے سے مکمل اجتناب کریں، کیونکہ صاف ہوا صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحول دوست پالیسیوں پر عملدرآمد حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے اور اسموگ کے مستقل خاتمے کے لیے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی صحت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، تاہم شہریوں کا تعاون بھی بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور اپنی اور اپنے بچوں کی صحت کا خصوصی خیال رکھیں۔
حکام کے مطابق اگر موجودہ اقدامات اور عوامی تعاون اسی طرح جاری رہا تو آنے والے دنوں میں فضائی معیار میں مزید بہتری متوقع ہے، جو پنجاب کو ایک صاف اور صحت مند ماحول کی جانب لے جائے گی۔