اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے دہشت گردی کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گٹھ جوڑ کے ٹھوس شواہد سامنے آ چکے ہیں، جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی ایک بار پھر پاکستان کے امن کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ریاست اس خطرے سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 میں جس طرح دہشت گردی کا قلع قمع کیا گیا، اسی جذبے کے ساتھ دوبارہ کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردوں کو کسی صورت پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہیں کی جائیں گی اور انہیں سرحدوں سے باہر پھینک کر بحرِ ہند میں ڈبو دیا جائے گا۔ انہوں نے دشمن قوتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو وسائل فراہم کر کے پاکستان میں بدامنی پھیلانا چاہتی ہیں۔
شہباز شریف نے واضح کیا کہ افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں، جو خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
وزیراعظم نے علما کرام کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام مکاتبِ فکر کے علما کی یکجہتی دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کو مضبوط بنائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں اتحاد اور باہمی مشاورت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔