واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی گرین لینڈ خریدنے کی خواہش صرف جغرافیائی یا عسکری حکمت عملی تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک طاقتور امریکی تاجر اور عالمی کاسمیٹکس کمپنی کے وارث رونالڈ لاؤڈر کے کاروباری مفادات بھی کارفرما ہیں۔
یورپی ممالک کی جانب سے امریکی صدر کے اس ارادے پر شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ فرانس کے وزیر خزانہ رولان لیسکور نے امریکی ہم منصب اسکاٹ بیسنٹ کو واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ گرین لینڈ پر قبضے کی کوئی بھی کوشش یورپ کی “سرخ لکیروں” کو عبور کرنے کے مترادف ہو گی۔ لائسکور کے مطابق، گرین لینڈ ایک خود مختار ریاست کا حصہ ہے اور اس کی حیثیت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یورپ اور امریکا کے تعلقات کو سنگین خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔
رونالڈ لاؤڈر کا کردار
2018 میں قومی سلامتی کے مشیر رہنے والے جان بولٹن نے اخبار “دی گارڈین” کو بتایا کہ ٹرمپ کو یہ تجویز ایک معتبر امریکی تاجر رونالڈ لاؤڈر نے دی۔ لاؤڈر ایسٹی لاؤڈر برانڈ سے جڑی دولت کے وارث ہیں اور نیویارک کے معتبر کاروباری حلقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بولٹن کے مطابق، اس تجویز کے بعد وائٹ ہاؤس نے گرین لینڈ میں امریکی اثر و رسوخ بڑھانے کے طریقوں پر غور شروع کر دیا۔
بولٹن نے مزید کہا کہ ٹرمپ دوستوں سے سنی ہوئی باتوں کو حقیقت سمجھ لیتے ہیں، اور ایک بار رائے بنانے کے بعد اس پر عمل کرنے میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ اس وجہ سے، لاؤڈر کی تجویز صدر کے سامراجی عزائم کو بھڑکانے کا سبب بنی۔
لاؤڈر کے کاروباری مفادات
گارڈین کے مطابق، لاؤڈر نے گرین لینڈ میں پہلے ہی متعدد کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے، جن میں نایاب معدنی وسائل کی تلاش، لگژری پانی کی برآمد، اور پن بجلی کے منصوبے شامل ہیں۔ لاؤڈر کا کہنا ہے کہ گرین لینڈ میں برف کے پگھلنے کے نتیجے میں نئے بحری راستے کھلیں گے، جو عالمی تجارت اور مستقبل کی عالمی سلامتی کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔
لاؤڈر نے ٹرمپ سے اپنی ملاقات 1960 کی دہائی میں کی، اور اس کے بعد انہوں نے پینٹاگون میں خدمات انجام دیں، آسٹریا میں امریکی سفیر کے طور پر کام کیا، اور نیویارک کے میئر کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی۔ لاؤڈر نہ صرف گرین لینڈ میں تجارتی اثاثے حاصل کر چکے ہیں بلکہ وہ یوکرین کے معدنی وسائل تک رسائی کے خواہاں کنسورشیم کا بھی حصہ ہیں۔
نتیجہ:
یوں گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی خواہش محض سیاسی یا دفاعی حکمت عملی نہیں بلکہ اس کے پیچھے طاقتور تجارتی مفادات اور ایک عالمی کاسمیٹکس کمپنی کے وارث کی سوچ بھی نمایاں طور پر موجود ہے۔ یورپ اور امریکا کے تعلقات، عالمی تجارت، اور مستقبل کی سلامتی کے مسائل بھی اس فیصلے سے متاثر ہو سکتے ہیں۔