بھارتی ریاست اڈیشہ میں انسانیت کو شرمندہ کرنے والا ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں دھماکا خیز مواد کھانے والا ایک ہاتھی دورانِ علاج جانبر نہ ہو سکا۔ واقعہ اڈیشہ کے ضلع ڈھینکانال میں پیش آیا، جس نے جنگلی حیات کے تحفظ پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق زخمی ہاتھی کو کپلاہ ایلیفینٹ ٹریٹمنٹ سینٹر منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ گزشتہ چند دنوں سے زیرِ علاج تھا، تاہم زخموں کی شدت کے باعث آج ہلاک ہو گیا۔ ہاتھی کی حالت تیزی سے بگڑنے پر محکمہ جنگلات نے ہنگامی بنیادوں پر خصوصی ریسکیو آپریشن کیا تھا۔
محکمہ جنگلات کے حکام کا کہنا ہے کہ ہاتھی بنٹالا جنگلاتی علاقے میں پتھر گڈا ساہی کے قریب انتہائی تشویشناک حالت میں پایا گیا تھا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہاتھی نے 5 سے 6 روز قبل کوئی دھماکا خیز مواد کھا لیا تھا، جس کے نتیجے میں اس کے منہ کے اندر گہرے اور خطرناک زخم آ گئے تھے۔
حکام کے مطابق زخموں کی شدت کے باعث ہاتھی کھڑا ہونے کے قابل بھی نہیں رہا تھا، جس کی وجہ سے اسے کرین کی مدد سے ہاتھیوں کے بچاؤ کے لیے خصوصی طور پر تیار کی گئی ریسکیو گاڑی میں لادا گیا اور علاج کے لیے سینٹر منتقل کیا گیا۔ ویٹرنری ماہرین کی ٹیم نے مسلسل طبی امداد فراہم کی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود ہاتھی جانبر نہ ہو سکا۔
محکمہ جنگلات کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ممکنہ طور پر شکاریوں کی جانب سے بچھائے گئے کسی جال یا دھماکا خیز مواد کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جو عام طور پر جنگلی جانوروں کے شکار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم واقعے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیقات جاری ہیں۔
واقعے کے بعد ماحولیاتی اور جنگلی حیات کے تحفظ سے وابستہ حلقوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور جنگلات میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے تاکہ معصوم جانوروں کی جانیں بچائی جا سکیں۔
یہ واقعہ نہ صرف جنگلی حیات کو درپیش خطرات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ انسانی لاپرواہی اور غیر قانونی شکار کے تباہ کن نتائج کی بھی دردناک یاد دہانی ہے۔