کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں پیش آنے والے ہولناک آتشزدگی کے واقعے سے متعلق پولیس کی ابتدائی تحقیقات سامنے آ گئی ہیں۔ کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی آزاد خان نے سانحہ گل پلازہ میں تخریب کاری کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابتدائی شواہد کے مطابق آگ لگنے کا واقعہ کسی سازش کا نتیجہ نہیں لگتا۔
گل پلازہ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آزاد خان نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ ادارے تمام پہلوؤں سے تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم اب تک تخریب کاری کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ انہوں نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران اب تک 14 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ خدشہ ہے کہ ملبے تلے مزید افراد بھی موجود ہو سکتے ہیں۔ پولیس چیف کے مطابق اسپتالوں میں اس وقت کوئی زخمی زیرِ علاج نہیں۔
سانحہ گل پلازہ ہفتے کی شب تقریباً سوا 10 بجے پیش آیا، جب عمارت کے گراؤنڈ فلور پر آگ بھڑکی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کی اور تیسری منزل تک پھیل گئی، جس کے نتیجے میں خوفناک آتشزدگی سے عمارت کے کئی حصے منہدم ہو گئے۔ فائر بریگیڈ کی طویل اور مسلسل کوششوں کے بعد 33 گھنٹے میں آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا، جس کے بعد کولنگ کا عمل جاری ہے۔
چیف فائر آفیسر نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی ایک دکان میں ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر آگ لگی، جبکہ 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو اطلاع دی گئی۔ ان کے مطابق 10 بج کر 57 منٹ پر ریسکیو 1122 کے دو فائر ٹینڈر موقع پر پہنچ گئے تھے۔
چیف فائر آفیسر کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں تقریباً 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں، تاہم ان راستوں کی تنگی کے باعث فائر فائٹنگ کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق عمارت کے تمام داخلی اور خارجی راستوں میں دھواں بھر گیا تھا جس سے ریسکیو کارروائی مزید پیچیدہ ہو گئی۔
انہوں نے بتایا کہ آگ بجھانے کے ابتدائی 2 سے 3 گھنٹوں کے دوران پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ پانی فراہم کرنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام میں پھنس گئے، جس سے سپلائی میں تاخیر ہوئی۔ چیف فائر آفیسر کے مطابق ہجوم اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے بھی پانی کی کمی فوری طور پر پوری نہ کی جا سکی، تاہم آگ بجھانے کے لیے پہلے ہی دن فوم کا استعمال کیا گیا۔
چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ عمارت کے تین مختلف مقامات سے حصے گر چکے ہیں اور گل پلازہ اس وقت انتہائی مخدوش حالت میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی موقع پر 12 فائر ٹینڈر، 6 واٹر باوزر اور 2 اسنارکل موجود ہیں۔ ان کے مطابق آگ 90 فیصد بجھائی جا چکی ہے جبکہ عمارت کے اندر موجود سامان میں تقریباً 10 فیصد آگ باقی ہے۔ رات گئے تک گراؤنڈ فلور کی تمام دکانوں میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔
واقعے کے بعد شہریوں میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے جبکہ انتظامیہ کی جانب سے عمارت کی ساخت، فائر سیفٹی انتظامات اور ممکنہ غفلت کے پہلوؤں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔