اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ سے متعلق قائم کیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو غزہ کے مستقبل اور خطے کی سیاست کے تناظر میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے غزہ کے انتظامی اور بحالی امور کی نگرانی کے لیے تشکیل دی گئی کمیٹی، جسے غزہ بورڈ آف پیس کا نام دیا گیا ہے، میں اسرائیلی وزیراعظم کی شمولیت کی باضابطہ تصدیق ہو گئی ہے۔ نیتن یاہو نے اس فورم میں شامل ہو کر غزہ کے معاملات پر اپنا کردار ادا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس سے قبل متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش سمیت چند دیگر ممالک بھی صدر ٹرمپ کی دعوت پر اس بورڈ میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان ممالک کی شرکت کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں میں اضافے اور غزہ کے مستقبل سے جڑے فیصلوں میں بین الاقوامی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، جسے پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ابتدائی طور پر اس بورڈ کا مقصد غزہ کی بحالی، انتظامی معاملات اور تعمیرِ نو کے عمل کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے جاری کردہ چارٹر کے مطابق اس کا دائرۂ کار صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا۔ مبصرین کے مطابق اس سے عندیہ ملتا ہے کہ مستقبل میں یہ فورم خطے کے دیگر تنازعات یا انسانی بحرانوں پر بھی کردار ادا کر سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اس بورڈ میں شمولیت جہاں ایک جانب عالمی سطح پر سفارتی توازن کو متاثر کر سکتی ہے، وہیں غزہ کے معاملات پر نئے سوالات اور خدشات کو بھی جنم دے رہی ہے۔ اس بورڈ کے عملی اقدامات اور فیصلے آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔