نئی دہلی — امریکا کے ساتھ مجوزہ تجارتی معاہدے کے خلاف بھارت کی بڑی کسان تنظیموں نے ملک بھر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے اور 12 فروری کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس معاہدے میں زرعی شعبے کے حوالے سے بھارت نے ضرورت سے زیادہ رعایتیں دی ہیں جو کسانوں کے معاشی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گی۔
کسان تنظیموں کا سخت ردعمل
طاقتور کسان اتحاد سمیُکت کسان مورچہ نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہڑتال سمیت دیگر اقدامات کیے جائیں گے۔ کسان رہنماؤں نے اس معاہدے کو غیر منصفانہ اور یکطرفہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے کسانوں کو اعتماد میں لیے بغیر فیصلے کیے ہیں۔
رہنماؤں کے مطابق معاہدے کی موجودہ شرائط کے تحت امریکی زرعی مصنوعات کو بھارتی منڈیوں میں زیادہ رسائی مل سکتی ہے جس سے مقامی کسانوں پر مسابقتی دباؤ بڑھے گا اور چھوٹے کاشتکار متاثر ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس اور عوامی ردعمل
ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی کسان برادری میں اس تجارتی معاہدے پر شدید غم و غصہ اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔ مختلف ریاستوں میں کسان یونینز نے اجلاس منعقد کیے ہیں جن میں احتجاجی لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ کسان رہنماؤں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ زرعی شعبے کے حساس معاملات پر مناسب مشاورت کے بغیر بین الاقوامی معاہدے کرنے جا رہی ہے۔
حکومت پر تنقید اور مطالبات
کسان تنظیموں نے معاہدے کو مودی حکومت کی نااہلی اور امریکا کے سامنے “سرنڈر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارتی زرعی شعبے پر معاشی دباؤ میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاہدے کی شقوں کو فوری طور پر عوام کے سامنے لایا جائے اور کسانوں کے مفادات کو یقینی بنایا جائے۔
تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ شرائط کے تحت معاہدہ طے پایا تو ملک بھر میں شدید احتجاج ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے بھارتی وزیرِ تجارت کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
ممکنہ سیاسی اور معاشی اثرات
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر احتجاجی تحریک شدت اختیار کرتی ہے تو اس کے ملکی سیاست اور معیشت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب بھارت عالمی سطح پر تجارتی روابط بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اور کسان تنظیموں کے درمیان مذاکرات ہی اس بحران کا ممکنہ حل ہو سکتے ہیں۔
کسان تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ جب تک معاہدے کی متنازع شقوں پر نظرثانی نہیں کی جاتی، ان کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔