واشنگٹن/نیویارک/اسلام آباد: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” کے رکن ممالک جمعرات کو ہونے والے اپنے پہلے باضابطہ اجلاس میں غزہ کی تعمیرِ نو اور انسانی امداد کے لیے 5 ارب ڈالر سے زائد مالی وعدوں کا اعلان کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں کہا کہ یہ اجلاس ان کی انتظامیہ کی اس وسیع تر سفارتی کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ میں جاری جنگ کا خاتمہ اور خطے میں پائیدار استحکام کو فروغ دینا ہے۔
اسٹیبلائزیشن فورس اور سکیورٹی انتظامات
صدر کے مطابق بورڈ کے رکن ممالک نے اقوامِ متحدہ کی منظوری سے قائم کی جانے والی ایک “اسٹیبلائزیشن فورس” اور مقامی پولیس ڈھانچے کے لیے ہزاروں اہلکار فراہم کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے۔ یہ فورس جنگ بندی کے بعد سکیورٹی خلا کو پُر کرنے، امدادی سرگرمیوں کے تحفظ اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی کے عمل کو یقینی بنانے کے لیے تعینات کی جا سکتی ہے۔
بورڈ کے قیام کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے ذریعے کی گئی تھی۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی اور عبوری انتظامی استحکام کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرے گا۔
پہلا باضابطہ اجلاس، 20 سے زائد ممالک کی شرکت
وائٹ ہاؤس ذرائع کے مطابق جمعرات کو ہونے والا اجلاس اس گروپ کا پہلا باضابطہ اجلاس ہوگا، جو Donald Trump Institute of Peace میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں 20 سے زائد ممالک کے وفود شرکت کریں گے، جن میں مشرق وسطیٰ، یورپ اور ایشیا کے اہم ممالک شامل ہیں۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں امدادی فنڈز کے اعلانات کے ساتھ ساتھ سکیورٹی ڈھانچے، عبوری سول انتظامیہ اور بحالی کے مرحلہ وار منصوبے پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
پاکستان کی شرکت
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے، جبکہ وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اسلام آباد خطے میں پائیدار امن اور انسانی امداد کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
حماس کی شرائط
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے اجلاس سے قبل ممکنہ عالمی امن فورس کے حوالے سے اپنی شرائط واضح کر دی ہیں۔ حماس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اگر عالمی فورس کو غزہ میں تعینات کیا جاتا ہے تو اسے سرحدی حدود تک محدود رہنا ہوگا اور فلسطین کے سول، سیاسی یا سکیورٹی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
ترجمان کے مطابق عالمی اہلکاروں کو صرف فریقین کے درمیان “حفاظتی تہہ” کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ داخلی امور میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو فلسطینی عوام ناقابل قبول سمجھیں گے اور ایسی صورت میں عالمی فورس کو “قابضین کا متبادل” تصور کیا جا سکتا ہے۔
سفارتی و سکیورٹی چیلنجز
تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ میں تعمیرِ نو اور سکیورٹی کے لیے بین الاقوامی فورس کی تعیناتی ایک پیچیدہ معاملہ ہوگا، کیونکہ اسے ایک طرف اسرائیل کے سکیورٹی تحفظات اور دوسری جانب فلسطینی گروہوں کے سیاسی مؤقف کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 5 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا اعلان ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اصل چیلنج شفاف تقسیم، مقامی شراکت داری اور طویل مدتی سیاسی حل کی جانب پیش رفت ہوگا۔
عالمی برادری کی نظریں اب جمعرات کے اجلاس پر مرکوز ہیں، جہاں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ سفارتی اقدام غزہ میں دیرپا امن کی بنیاد رکھ سکتا ہے یا نہیں۔