لاہور/ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ڈیسک: ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں روایتی حریف بھارت کے خلاف شکست کے بعد قومی ٹیم مینجمنٹ نے اہم فیصلوں پر غور شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی پر مایوسی پائی جا رہی ہے اور اگلے میچ کے لیے پلیئنگ الیون میں بڑی تبدیلیوں کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیم انتظامیہ کپتان بابر اعظم اور فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو نمیبیا کے خلاف میچ میں آرام دینے کے آپشن پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے، تاکہ بینچ اسٹرنتھ کو آزمایا جا سکے۔
نمیبیا کے خلاف ڈو اینڈ ڈائی مقابلہ
پاکستان اپنا آخری گروپ میچ 18 فروری کو نمیبیا قومی کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلے گا۔ یہ میچ پاکستان کے لیے عملی طور پر “ڈو اینڈ ڈائی” کی حیثیت اختیار کر چکا ہے کیونکہ سپر ایٹ مرحلے میں رسائی کے لیے فتح ضروری ہے۔
ذرائع کے مطابق نمیبیا کے خلاف میچ میں دو سے تین تبدیلیاں متوقع ہیں۔ سینئر کھلاڑیوں کی جگہ نوجوان اور کم تجربہ کار کھلاڑیوں کو موقع دینے کی تجویز زیر غور ہے، تاکہ ٹیم میں نئی توانائی لائی جا سکے۔
بارش کی صورت میں بھی امید برقرار
دلچسپ امر یہ ہے کہ اگر پاکستان اور نمیبیا کا میچ بارش کی نذر ہو جاتا ہے تو پوائنٹس شیئر ہونے کی صورت میں بھی پاکستان کے سپر ایٹ مرحلے تک پہنچنے کے امکانات روشن رہیں گے۔ تاہم ٹیم مینجمنٹ کسی بھی حساب کتاب پر انحصار کرنے کے بجائے واضح فتح چاہتی ہے۔
کارکردگی پر سوالات
بھارت کے خلاف میچ میں بیٹنگ لائن اور بولنگ اٹیک دونوں شعبوں میں توقعات کے برعکس کارکردگی دیکھنے میں آئی، جس کے بعد ٹیم کمبی نیشن پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اہم میچز میں سینئر کھلاڑیوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے، تاہم حالیہ مقابلے میں وہ دباؤ کا سامنا نہ کر سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈریسنگ روم میں سنجیدہ مشاورت جاری ہے اور کھلاڑیوں کو اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے واضح پیغام دے دیا گیا ہے۔
آگے کا لائحہ عمل
ٹیم مینجمنٹ کا مؤقف ہے کہ ٹورنامنٹ ابھی ختم نہیں ہوا اور ایک کامیابی ٹیم کا مورال بحال کر سکتی ہے۔ نمیبیا کے خلاف میچ میں ممکنہ تبدیلیوں کا حتمی فیصلہ پریکٹس سیشنز اور کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
شائقین کی نظریں اب 18 فروری کے میچ پر مرکوز ہیں، جہاں قومی ٹیم کے لیے واپسی کا آخری موقع ہوگا۔