ویانا: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف کا آسٹریا کی فیڈرل چانسلری پہنچنے پر پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں کرسچئین اسٹاکر نے ان کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا۔
آسٹرین چانسلری میں وزیرِاعظم پاکستان کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کے آغاز پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ آسٹرین مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیرِاعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ شہباز شریف نے اپنے آسٹرین ہم منصب کے ہمراہ گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔
وفود کا تعارف اور خوشگوار تبادلۂ خیال
تقریب کے دوران دونوں رہنماؤں نے مصافحہ کیا اور خوشگوار جملوں کا تبادلہ کیا۔ آسٹریا کے چانسلر نے اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف وزیرِاعظم پاکستان سے کرایا جبکہ شہباز شریف نے اپنے وفد کے اراکین کو آسٹرین چانسلر سے متعارف کرایا۔
وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلمبند کیے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
دوطرفہ اور وفود کی سطح پر مذاکرات
دورے کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ ملاقات کے علاوہ وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوں گے، جن میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات چیت متوقع ہے۔
وزیرِاعظم اور آسٹرین چانسلر معروف کاروباری شخصیات کے اجلاس کی مشترکہ صدارت بھی کریں گے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینا ہے۔
آسٹریا بزنس فورم اور اقوام متحدہ کی تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہباز شریف ویانا میں منعقدہ آسٹریا بزنس فورم میں شرکت اور خطاب کریں گے، جہاں وہ پاکستانی معیشت میں سرمایہ کاری کے امکانات اور حکومتی اصلاحات پر روشنی ڈالیں گے۔
اس کے علاوہ وزیرِاعظم اقوام متحدہ کے تحت منعقدہ خصوصی تقریب بعنوان “پائیدار ترقی، عالمی امن و خوشحالی کا راستہ” سے بھی خطاب کریں گے، جس میں عالمی رہنما اور سفارتکار شریک ہوں گے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل سے ملاقات
دورۂ ویانا کے دوران وزیرِاعظم انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل سے بھی ملاقات کریں گے، جس میں جوہری توانائی کے پُرامن استعمال اور تکنیکی تعاون سے متعلق امور زیرِ غور آئیں گے۔
دوطرفہ تعلقات میں نئی پیش رفت کی توقع
تجزیہ کاروں کے مطابق وزیراعظم کا یہ دورہ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان سفارتی و معاشی تعلقات کو نئی جہت دے سکتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات متوقع ہیں، جبکہ عالمی سطح پر پائیدار ترقی اور امن کے حوالے سے بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ یورپی ممالک کے ساتھ پاکستان کے روابط کو مضبوط بنانے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔