گجرات: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے بچوں کا مستقبل انتشار، بدتمیزی اور پسماندگی نہیں ہو سکتا، انہیں بھی تعلیم، ترقی اور مواقع ملنے چاہئیں۔
یونیورسٹی آف گجرات میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “اٹک کے اُس پار خیبرپختونخوا ہے، وہاں کے بچوں کے ہاتھ میں ہتھیار اور دماغ میں گالی ہے، جبکہ پنجاب کے لاکھوں بچے ٹیکنیکل ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں۔ ادھر ہونہار ہے اور ادھر انتشار ہے، یہ خوشی کی بات نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ پہلے پاکستانی ہیں اور بعد میں پنجاب کی وزیراعلیٰ، اس لیے انہیں خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے مستقبل کی بھی فکر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کے پی کے لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ آج کے دور میں تعلیم اور ہنر ہی ترقی کی ضمانت ہیں۔
اختلاف کریں مگر ذاتیات سے گریز کریں
مریم نواز نے سیاسی ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اختلاف پالیسی، کارکردگی اور خدمت پر ہونا چاہیے، نہ کہ ذاتیات پر۔ انہوں نے کہا کہ سیاست سے “انتشار، گھیراؤ جلاؤ اور آگ لگانے” کی روایت ختم ہونی چاہیے۔
انہوں نے اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “وہ جیل میں ہیں لیکن میں نے کبھی نہیں کہا کہ انہیں کھانا نہ دیا جائے یا سہولت نہ دی جائے۔ جو علاج انہیں درکار ہے وہ دیا جا رہا ہے، ہم کسی کا برا نہیں چاہتے۔”
پنجاب کی جین زی کے لیے بڑے دعوے
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پنجاب کی “جین زی” دنیا کو فتح کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ ان کے مطابق لیپ ٹاپ تقسیم کرنا محض سرکاری تقریب نہیں بلکہ ایک ماں کا اپنے بچوں کی کامیابی پر جشن منانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام وسائل نوجوانوں اور بیٹیوں کی تعلیم و ترقی پر خرچ کیے جا رہے ہیں اور آئندہ بھی کیے جائیں گے۔
اقتدار عارضی، جوابدہی دائمی
مریم نواز نے اپنی تقریر میں ماضی کے سیاسی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اقتدار آنی جانی چیز ہے اور یہ ہمیشہ ایک ہاتھ میں نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار کا حساب صرف عوام کو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو بھی دینا ہوتا ہے۔
انہوں نے اپنے خاندان کے جیل کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کی وفات کی خبر جیل میں ملی اور ان کے والد نواز شریف نے کہا تھا کہ “یہاں انسان کو اپنی سچائی ثابت کرنے کے لیے مرنا پڑتا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی سیاسی مخالفین کے لیے بنیادی سہولیات ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا اور سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی میں بدلنے کی روایت ختم ہونی چاہیے۔
خطاب پر ردعمل
مریم نواز کے خطاب کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ بعض حلقوں نے اسے نوجوانوں کے لیے ترقی کا پیغام قرار دیا، جبکہ ناقدین نے خیبرپختونخوا سے متعلق بیانات کو متنازع قرار دیا۔
تقریب میں طلبہ کی بڑی تعداد شریک تھی اور وزیراعلیٰ نے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر اور مثبت سوچ اپنانے کی تلقین کی۔