دبئی کے پوش رہائشی علاقوں دبئی مرینا اور پام جمیرا میں قائم ایک جدید ہائی ٹیک سائبر بینک فراڈ نیٹ ورک کو حکام نے بے نقاب کر دیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزمان نے شہریوں کو دھوکہ دینے کے لیے نہایت منظم اور تکنیکی بنیادوں پر مبنی نظام تشکیل دیا تھا جس کے ذریعے آن لائن بینکنگ صارفین کو نشانہ بنایا گیا۔
جدید آلات کے ذریعے جعلی موبائل نیٹ ورک قائم
حکام کے مطابق ملزمان نے خصوصی آئی ٹی آلات اور سگنل جیمرز غیر قانونی طور پر متحدہ عرب امارات میں اسمگل کیے۔ ان آلات کی مدد سے ایک “شیڈو موبائل نیٹ ورک” قائم کیا گیا، جس کے ذریعے اصل موبائل فریکوئنسیز کو بلاک کر کے جعلی نیٹ ورک فعال کیا جاتا تھا۔
اس جعلی نیٹ ورک کے ذریعے شہریوں کو معروف بینکوں اور سرکاری اداروں کے نام سے ایس ایم ایس پیغامات بھیجے جاتے تھے۔ ان پیغامات میں مستند بینک لوگوز اور قابلِ اعتماد زبان استعمال کی جاتی تھی تاکہ صارفین کو کسی قسم کا شک نہ ہو۔
نقصان دہ لنکس کے ذریعے ڈیٹا چوری
تحقیقات کے مطابق متاثرین کو ایسے لنکس پر کلک کرنے پر آمادہ کیا جاتا تھا جو بظاہر بینکوں کی آفیشل ویب سائٹس سے مشابہ ہوتے تھے، تاہم درحقیقت وہ جعلی ویب پیجز تھے۔ ان ویب سائٹس پر صارفین سے لاگ اِن تفصیلات، شناختی معلومات اور دیگر حساس مالیاتی ڈیٹا حاصل کیا جاتا تھا۔
بعد ازاں یہی معلومات استعمال کرتے ہوئے متاثرہ افراد کے بینک اکاؤنٹس سے رقوم منتقل کی جاتیں اور رقم بیرون ملک یا مقامی اکاؤنٹس میں تقسیم کر دی جاتی۔
فراڈ کا انکشاف کیسے ہوا؟
یہ ہائی ٹیک فراڈ اس وقت منظر عام پر آیا جب دبئی مرینا کے متعدد رہائشیوں نے مشکوک پیغامات موصول ہونے پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی۔ شکایات موصول ہونے کے بعد ٹیلی کمیونی کیشن ریگولیٹری اتھارٹی کے ماہرین نے مشتبہ سگنلز کا سراغ لگایا۔
تکنیکی نگرانی کے دوران ایک غیر معمولی موبائل سگنل نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی جس کی لوکیشن پام جمیرا کے قریب پائی گئی۔
پام جمیرا میں کارروائی، گاڑی سے آلات برآمد
تحقیقات کے بعد پولیس نے پام جمیرا میں کھڑی ایک گاڑی کا سراغ لگایا جس میں جیمنگ ڈیوائسز، ریسیورز، کمپیوٹرز اور دیگر برقی آلات نصب تھے۔ حکام کے مطابق یہی گاڑی جعلی نیٹ ورک کے آپریشن کا مرکزی مرکز تھی۔
کارروائی کے دوران تین ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا اور تمام الیکٹرانک آلات ضبط کر لیے گئے۔
عدالتی فیصلہ اور سزا
مقدمہ عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد تینوں ملزمان کو چھ، چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔ عدالت نے حکم دیا کہ سزا مکمل کرنے کے بعد ملزمان کو ملک بدر بھی کیا جائے گا۔
حکام نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک ایس ایم ایس، ای میل یا لنک پر کلک کرنے سے گریز کریں اور بینک سے متعلق کسی بھی پیغام کی تصدیق براہِ راست متعلقہ ادارے سے کریں۔