راولپنڈی: بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر فتنہ الخوارج کے حملے کے دوران پاک فوج کے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے۔ یہ واقعہ سکیورٹی فورسز کے ایک خفیہ آپریشن کے دوران پیش آیا، جس میں دہشت گردوں کو بروقت نشانہ بنایا گیا اور بنوں کو بڑے سانحے سے بچا لیا گیا۔
حملے کا پس منظر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (ISPR) کے مطابق، سکیورٹی فورسز کو اطلاع ملی تھی کہ ایک گاڑی خودکش حملہ آور کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ فورسز نے خفیہ معلومات کی بنیاد پر علاقے میں آپریشن شروع کیا۔
• اگلے دستے نے خودکش بمبار کی گاڑی کو بروقت روک لیا۔
• دہشت گردوں نے ناکامی پر بارود سے بھری گاڑی کو فورسز کی گاڑی سے ٹکرانے کی کوشش کی۔
• اس دھماکے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گلفراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہوگئے۔
فورسز کی کارروائی
• سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی گاڑی کو بروقت نشانہ بنایا۔
• آپریشن کے دوران 5 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
• بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے ناپاک عزائم ناکام بنائے گئے۔
آئی ایس پی آر کا بیان
• ماہ رمضان میں بھی خوارج کی دہشت گردی جاری ہے، جو اسلام سے بے تعلق ہے۔
• طالبان حکومت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے سے قاصر ہے۔
• پاکستان بلا امتیاز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا۔
• سکیورٹی فورسز کی ‘عزمِ استحکام’ کے تحت انسدادِ دہشت گردی مہم پوری قوت سے جاری ہے۔
• بہادر سپاہیوں کی قربانیاں غیرمتزلزل عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
قومی ردعمل
• فورسز کے اعلیٰ حکام نے شہید اہلکاروں کی قربانی کو قومی فخر قرار دیا۔
• سیاسی اور عسکری حلقوں نے فورسز کی بروقت کارروائی کو سراہا اور دہشت گردوں کی ناکامی پر خوشی کا اظہار کیا۔
یہ حملہ یاد دلاتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے، اور سیکیورٹی فورسز اپنی جانوں کی قربانی دے کر شہریوں کو محفوظ بنانے میں مصروف ہیں۔