کراچی میں مبینہ منشیات نیٹ ورک کے خلاف تحقیقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے مبینہ ڈرگ کارٹیل سے متعلق ہینڈلرز، کیریئرز اور رائیڈرز کا مکمل ڈیٹا تیار کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی اداروں نے ایک تفصیلی ڈیٹا گراف مرتب کیا ہے جس میں نیٹ ورک سے وابستہ افراد کی تصاویر اور کردار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں منشیات کی سپلائی 3 مبینہ ہینڈلرز اور 22 کیریئرز کے ذریعے کی جاتی تھی، جبکہ رائیڈرز مختلف علاقوں میں منشیات پہنچانے کے ذمہ دار تھے۔
تحقیقات کے مطابق حمزہ، عباس اور عاقب کراچی میں نیٹ ورک کے مرکزی ہینڈلرز تھے، جبکہ انمول عرف پنکی کے بھائی شوکت کے ذریعے ان افراد سے رابطے کیے جاتے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نیٹ ورک میں شامل 3 خواتین کو بھی بطور کیریئر استعمال کیا جاتا تھا، جنہیں مبینہ طور پر 70 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جاتا تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ لاہور سے آنے والی منشیات میں کیمیکل ملا کر اسے تیار کرنے کا کام انمول کے بھائی ناصر کے سپرد تھا، جبکہ 8 رائیڈرز لاہور، فیصل آباد اور وہاڑی سے کراچی آکر ڈیلیوری انجام دیتے تھے۔
دوسری جانب تحقیقاتی حکام نے 4 افراد کے نام پی آئی این ایل میں شامل کرنے کی درخواست متعلقہ اداروں کو ارسال کردی ہے تاکہ انہیں بیرون ملک جانے سے روکا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق درخواست میں انمول کے دونوں سابق شوہروں اور دو بھائیوں کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جبکہ حکام کو ان کے فرار ہونے کا خدشہ ہے۔