بھارت میں طلبہ اور نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائیوں سے متعلق مقدمات میں بھارتی سپریم کورٹ نے اہم احکامات جاری کرتے ہوئے نوجوان مظاہرین کو فوری ریلیف فراہم کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ احتجاج کے سلسلے میں درج مقدمات میں فی الحال کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے، جبکہ نابالغ مظاہرین کو بھی فوری طور پر رہا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
بھارتی سپریم کورٹ نے نوجوان مظاہرین کے خلاف مبینہ پولیس تشدد اور طاقت کے استعمال سے متعلق دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران مرکزی حکومت سمیت سات ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تفصیلی جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ احتجاج میں شریک افراد کا ڈیجیٹل اور ذاتی ڈیٹا محفوظ رکھا جائے اور اسے عوامی سطح پر ظاہر نہ کیا جائے تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور رازداری کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ احتجاج کرنا شہریوں کا آئینی حق ہے اور اگر ریاستی اداروں کی جانب سے طاقت کے استعمال یا اختیارات سے تجاوز کے الزامات سامنے آئے ہیں تو ان کی غیرجانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں نہ صرف حقائق سامنے لانا ضروری ہے بلکہ جہاں ذمہ داری بنتی ہو وہاں جوابدہی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اگرچہ بڑے عوامی مظاہروں میں بعض اوقات شرپسند عناصر بھی شامل ہو جاتے ہیں، تاہم اس بنیاد پر تمام مظاہرین کے ساتھ یکساں سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج کرنے والے طلبہ اور نوجوانوں کے آئینی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دستیاب مواد سے بظاہر آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت واضح نظر آتی ہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی جا سکتی ہے تاکہ تمام الزامات کا غیرجانبدارانہ جائزہ لیا جا سکے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ دارالحکومت نئی دہلی اور دیگر شہروں میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے طلبہ و نوجوانوں کے احتجاج کے دوران پولیس اور نیم فوجی دستوں نے ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال کی، پیلٹ گنز چلائیں اور متعدد مظاہرین کو زخمی کیا۔ درخواست گزاروں نے ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔