اسلام آباد: پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے واقعے سے متعلق ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر نے اہم دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی موت جھلسنے کے باعث نہیں ہوئی بلکہ دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے سے ان کی جان گئی۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز رانا عمران سکندر کے مطابق واقعے کے وقت نرسری میں موجود نومولود بچوں کی شناخت ان کی کلائیوں پر لگے شناختی ٹیگز کی مدد سے کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ تمام شناختی ٹیگز محفوظ حالت میں تھے، اسی لیے لاشوں کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
رانا عمران سکندر کا کہنا تھا کہ اگر لاشیں ناقابل شناخت ہوتیں یا شناختی ٹیگز موجود نہ ہوتے تو ڈی این اے ٹیسٹ کرانا ضروری ہوتا، تاہم موجودہ صورتحال میں بچوں کی شناخت شناختی ٹیگز کے ذریعے ممکن تھی۔
آگ لگنے کے وقت نرسری میں کتنے بچے تھے؟
پمز حکام کے مطابق آگ لگنے کے وقت نرسری میں 15 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے ایک بچے کو محفوظ طریقے سے باہر نکال لیا گیا جبکہ باقی بچوں کی موت واقع ہوگئی۔
حکام کا کہنا ہے کہ آگ لگنے اور دھماکے کے فوراً بعد اسپتال کا عملہ بچوں کو بچانے کے لیے نرسری میں داخل ہونے کی کوشش کرتا رہا، تاہم دھماکے کے نتیجے میں چھت گرنے کے باعث امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیش آئیں۔
پمز حکام کے مطابق واقعے کے دوران دھواں تیزی سے نرسری میں پھیلا، جس کے باعث وہاں موجود نومولود بچوں کو شدید نقصان پہنچا۔
ڈی این اے ٹیسٹ نہ کرانے پر ورثا کے تحفظات
دوسری جانب نومولود بچوں کی شناخت ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر کیے جانے کے معاملے پر بعض ورثا کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
متاثرہ خاندانوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا کہ جب واقعہ انتہائی سنگین نوعیت کا تھا اور بچوں کی بڑی تعداد جان سے گئی تو شناخت کے عمل کو مزید یقینی بنانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کیوں نہیں کرائے گئے۔
پمز انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ بچوں کی کلائیوں پر موجود شناختی ٹیگز محفوظ تھے اور انہی کی بنیاد پر شناخت کی گئی، اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کی ضرورت نہیں تھی۔
نرسری میں 15 یا 40 سے 50 بچے؟ اہم سوال اٹھا دیا گیا
سانحہ پمز کی تحقیقات کے حوالے سے ایک اور اہم سوال اس وقت سامنے آیا جب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کی رکن ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے نرسری میں موجود بچوں کی تعداد سے متعلق پمز انتظامیہ کے مؤقف پر سوال اٹھایا۔
ڈاکٹر شازیہ ثوبیہ نے گزشتہ روز پمز اسپتال کے دورے کے بعد کہا تھا کہ انہیں معلوم ہوا کہ واقعے کے وقت نرسری میں 15 نہیں بلکہ 40 سے 50 بچے موجود تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر نرسری میں بچوں کی تعداد 40 سے 50 تھی تو پھر انتظامیہ کی جانب سے 15 بچوں کی موجودگی کی بات کیوں کی جا رہی ہے؟ انہوں نے مزید سوال کیا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے بغیر نومولود بچوں کی لاشیں لواحقین کے حوالے کیسے کی گئیں؟
تحقیقات میں تضادات سامنے آنے لگے
سانحہ پمز کے حوالے سے سامنے آنے والے مختلف بیانات کے بعد واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ ایک طرف پمز انتظامیہ بچوں کی تعداد 15 بتا رہی ہے اور شناختی ٹیگز کو شناخت کے لیے کافی قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب قائمہ کمیٹی کی رکن نے نرسری میں بچوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
بچوں کی موت کی وجہ، نرسری میں موجود بچوں کی اصل تعداد، شناخت کا طریقہ کار اور آتشزدگی کے دوران حفاظتی انتظامات سمیت مختلف معاملات اب بھی تحقیقات طلب ہیں۔
سانحے کی پارلیمانی اور حکومتی سطح پر تحقیقات کے مطالبات کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ تحقیقاتی عمل میں ان تمام سوالات کا جواب تلاش کیا جائے گا اور واقعے کے ذمہ داران کا تعین کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
پمز میں نومولود بچوں کی اموات جھلسنے سے نہیں، دھواں اور کالک سانس کے ذریعے جسم میں جانے سے ہوئیں: ایگزیکٹو ڈائریکٹر
3