غیر یقینی سیاسی صورتحال اور وینزویلا سے آنے والی غیر معمولی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر برینٹ خام تیل اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) دونوں کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
تیل کی قیمتوں کی تازہ صورتحال
رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.63 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کے بعد یہ 60.37 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہوا۔ اسی طرح امریکی معیار کے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت میں 0.70 فیصد کمی دیکھی گئی اور یہ 56.92 ڈالر فی بیرل تک گر گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی سطح پر سیاسی بے یقینی، سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور لاطینی امریکا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سامنے آئی ہے۔
وینزویلا کی صورتحال اور غیر مصدقہ اطلاعات
واضح رہے کہ امریکی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس سمیت مختلف مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور شہر کے مختلف علاقوں میں طیاروں کی نچلی پروازیں دیکھی گئیں۔ بعض رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ امریکی فوج نے کارروائیاں کیں اور صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا۔
تاہم وینزویلا کی حکومت یا بین الاقوامی اداروں کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آ سکی، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی ان اطلاعات کی توثیق ہونا باقی ہے۔
عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر وینزویلا میں سیاسی عدم استحکام طویل ہوتا ہے تو اس کے اثرات تیل کی سپلائی، لاطینی امریکا کی معیشت اور عالمی منڈیوں پر پڑ سکتے ہیں۔ وینزویلا پہلے ہی امریکی پابندیوں اور اندرونی بحران کے باعث تیل کی پیداوار میں کمی کا سامنا کر رہا ہے، اور تازہ صورتحال سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متاثر کر سکتی ہے۔
آئندہ دنوں کی پیش گوئی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار وینزویلا کی زمینی صورتحال، امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں کے ردِعمل اور اوپیک ممالک کے ممکنہ فیصلوں پر ہوگا۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے۔
عالمی منڈیاں اس وقت وینزویلا سے متعلق خبروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہیں۔