اسلام آباد: نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے پاور سیکٹر کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری کر دی ہے، جس میں بجلی کے شعبے کی سنگین مالی، انتظامی اور گورننس خامیوں کو بے نقاب کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکسز، سرچارجز اور ڈیوٹیز کے باعث بجلی کی قیمتیں صارفین کے لیے ناقابل برداشت ہو چکی ہیں جبکہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں (ڈسکوز) نقصانات میں کمی کے مقررہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں۔
نیپرا رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران صرف ٹیسکو واحد بجلی کمپنی رہی جو نقصانات میں کمی کا مقررہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی، جبکہ باقی تمام ڈسکوز اپنے اہداف پورے نہ کر سکیں۔ ایک سال کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات کے باعث گردشی قرض میں 397 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق کے الیکٹرک، پیسکو، حیسکو، سیپکو اور کیسکو کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔ ان کمپنیوں کو طویل لوڈشیڈنگ، کم وصولیوں، بڑھتے ہوئے واجبات اور انتظامی کمزوریوں جیسے سنگین مسائل کا سامنا رہا، جس کا براہ راست اثر صارفین پر پڑا۔
نیپرا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ سال 2025 میں کم نقصانات کے ہدف کو صرف ایک کمپنی حاصل کر سکی جبکہ ٹیسکو کے علاوہ تمام ڈسکوز اس حوالے سے ناکام رہیں۔ اس کے علاوہ کے الیکٹرک اور دیگر ڈسکوز میں نئے کنکشنز، میٹرز کے اجرا اور نیٹ میٹرنگ کنکشنز میں تاخیر معمول بن چکی ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران تھر کول سے چلنے والے بجلی گھروں کو مکمل صلاحیت کے مطابق استعمال نہیں کیا گیا۔ تھر کے کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس اوسطاً صرف 23.67 فیصد صلاحیت پر چلائے گئے، جس سے سستے ایندھن کے فوائد حاصل نہ ہو سکے۔
اسی طرح چار ہزار میگاواٹ کی لاہور-مٹیاری ٹرانسمیشن لائن کو بھی صرف 35 فیصد صلاحیت تک استعمال کیا گیا، تاہم اس کے باوجود اس منصوبے کی ادائیگیاں 100 فیصد بنیادوں پر کی گئیں، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑا۔
نیپرا کے مطابق سال 2025 میں بجلی کے ترسیلی نظام سے مکمل استفادہ نہیں کیا گیا۔ لاگ رپورٹس دستیاب نہ ہونے کے باعث ترسیلی نظام کی مکمل جانچ ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ بجلی کی ترسیل سے متعلق تقریباً تمام منصوبے تاخیر کا شکار رہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ پاور سیکٹر میں ترقی محدود رہی اور سرکاری پاور کمپنیوں میں گورننس کے شدید مسائل موجود ہیں۔ اداروں میں ڈیجیٹل ڈیٹا کی عدم دستیابی مؤثر منصوبہ بندی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
نیپرا نے بتایا کہ مالی سال 2024-25 کے دوران ٹیک اینڈ پے بنیادوں پر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کا کم استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں کپیسٹی پیمنٹس میں اضافہ ہوا اور مالی دباؤ مزید بڑھ گیا۔
رپورٹ کے مطابق مہنگی بجلی اور بجلی کمپنیوں کے رویوں سے تنگ آ کر صارفین متبادل توانائی کی جانب تیزی سے جا رہے ہیں۔ بجلی صارفین بڑی تعداد میں سولر توانائی اختیار کر رہے ہیں اور بجلی ذخیرہ کرنے کے لیے بیٹری سسٹمز کا استعمال بھی بڑھ رہا ہے۔
نیپرا کی رپورٹ میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈسکوز گزشتہ 20 سالوں میں بطور کارپوریٹ ادارے مؤثر انداز میں کام کرنے میں ناکام رہیں۔ ان کمپنیوں کے بورڈز اداروں کو مالی طور پر مستحکم بنانے میں سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتے، جبکہ وفاقی حکومت کی مداخلت بھی حد سے زیادہ ہے۔ پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی سمیت متعدد اداروں کے ذریعے ڈسکوز کو کنٹرول کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ڈسکوز کی ناقص کارکردگی کے باعث 233 ارب روپے کے ڈیٹ سروس سرچارجز کا بوجھ براہ راست صارفین نے برداشت کیا، جو مہنگی بجلی کی ایک بڑی وجہ بن رہا ہے۔
نیپرا کی اس رپورٹ کو پاور سیکٹر میں اصلاحات کی فوری ضرورت کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بغیر بجلی کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا ممکن نہیں ہوگا۔