کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 5 ہزار 478 پوائنٹس کی نمایاں کمی کے ساتھ 1 لاکھ 67 ہزار 691 کی سطح پر بند ہوا۔ دن بھر مارکیٹ میں منفی رجحان غالب رہا اور سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا دباؤ برقرار رہا۔
کاروبار کا آغاز منفی زون میں
مارکیٹ کھلتے ہی 100 انڈیکس 633 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 1 لاکھ 72 ہزار 536 پر آگیا۔ ابتدائی گھنٹوں میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھا اور انڈیکس 1,556 پوائنٹس گر کر 1 لاکھ 70 ہزار 980 تک پہنچ گیا۔
ٹریڈنگ سیشن کے دوران مندی کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور اختتام تک انڈیکس مجموعی طور پر 3.16 فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
دن کی بلند و پست سطح
• زیادہ سے زیادہ سطح: 1 لاکھ 74 ہزار 336
• کم سے کم سطح: 1 لاکھ 66 ہزار 886
• اختتامی سطح: 1 لاکھ 67 ہزار 691
• مجموعی کمی: 5,478 پوائنٹس (3.16 فیصد)
مارکیٹ میں بینکنگ، توانائی، سیمنٹ اور آئل اینڈ گیس سیکٹر میں نمایاں فروخت دیکھی گئی، جس نے انڈیکس کو نیچے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کیا۔
مندی کی وجوہات کیا ہیں؟
پی ایس ایکس میں ایک تقریب کے موقع پر سی ای او فرخ سبزواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں کمی، عالمی سیاسی تناؤ اور غیر یقینی معاشی حالات مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ:
• ریکوڈک منصوبے سے متعلق پیش رفت اور غیر یقینی صورتحال
• کمپنیوں کے حالیہ مالی نتائج
• عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی
• عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا ممکنہ اتار چڑھاؤ
یہ تمام عوامل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر رہے ہیں۔
جنوری کی بلند ترین سطح سے نیچے
فرخ سبزواری کے مطابق مارکیٹ جنوری میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں، جس سے مارکیٹ دباؤ کا شکار ہے۔
سرمایہ کاروں کے لیے اشارے
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں حالیہ مندی قلیل مدتی غیر یقینی عوامل کا نتیجہ ہو سکتی ہے، تاہم شرح سود میں ممکنہ مزید کمی اور معاشی استحکام کی صورت میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔
فی الحال سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اختیار کر رہے ہیں اور عالمی و مقامی معاشی اشاریوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔