ملک میں روئی اور پھٹی کے بڑے بحران کا خدشہ

کراچی: ٹیکسٹائل ملز کی جانب سے عدم خریداری کے باعث ملک میں روئی اور پھٹی کے بڑے بحران کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

کاٹن جنرز فورم کے مطابق سیلز ٹیکس فری ہونے کے باعث رواں سال روئی اور سوتی دھاگے کی ریکارڈ درآمد ہوئی ہے، رواں سال کپاس کی پیداوار ہدف سے 50 اور پچھلے سال سے 34 فی صد کم ہونے کے باوجود جننگ فیکٹریوں میں روئی کے اسٹاکس میں 31 فی صد اضافہ ہوا۔

ٹیکسٹائل ملز مالکان کی جانب سے روئی کی کسی بھی قیمت میں خریدنے میں عدم دل چسپی دکھائی جا رہی ہے، پاکستان کی منڈیوں اور کاشت کاروں کے پاس پھٹی کے بھی بڑے ذخائر موجود ہیں۔

روئی اور پھٹی کے بحران کے باعث رواں سال کپاس کی کاشت میں غیر معمولی کمی کا خدشہ ہے، تاہم کپاس کی ملکی پیداوار میں کمی کی صورت میں روئی کے ساتھ اربوں ڈالر مالیتی خوردنی تیل بھی درآمد کرنا پڑ سکتا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے مطالبہ کیا ہے کہ روئی اور سوتی دھاگے کی درآمد پر فوری طور پر سیلز ٹیکس عائد کیا جائے۔

Related posts

چینی، سگریٹ، کھاد اور سیمنٹ کی صنعت میں نمایاں کامیابی کے بعد ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم (ٹی ٹی ایس) کا دائرہ کار مزید وسعت دینے کا فیصلہ

نیپرا کی اسٹیٹ آف انڈسٹری رپورٹ 2025 جاری، بجلی مہنگی، ڈسکوز ناکام، گردشی قرض میں 397 ارب روپے کا اضافہ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، ہنڈرڈ انڈیکس ڈیڑھ گھنٹے میں 3 ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا