لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ: توہینِ مذہب کیس میں سزائے موت پانے والے چار ملزمان بری

لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ نے توہینِ مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے چار ملزمان کو بری کر دیا۔ چاروں افراد کو پہلے سیشن کورٹ نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

عدالت نے ملزمان کی جانب سے دائر اپیل منظور کرتے ہوئے سیشن کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

کیس کا پس منظر
• ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل راولپنڈی نے 12 ستمبر 2022 کو چاروں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
• ایف آئی اے نے ملزمان پر توہینِ ناموسِ رسالت اور پیکا ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی کی تھی۔
• سیشن کورٹ نے کیس کا ٹرائل مکمل کرتے ہوئے چاروں افراد کو سزائے موت سنائی تھی۔

ملزمان نے اس فیصلے کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس پر آج انہیں بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

Related posts

لاہور: مقامی عدالت نے یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی کو جوئے پروموشن کے مقدمے میں فرد جرم کے لیے طلب کرلیا

سپریم کورٹ کے سابق ججوں منصور علی شاہ اور اطہر من اللہ نے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد بڑی کمیوٹڈ پنشن حاصل کر لی

لاہور ہائیکورٹ نے غیرت کے نام پر بہن کے قتل میں ملوث بھائی کی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی