بنیادی حقوق اور شفاف انتخابات جمہوریت کے لیے ناگزیر ہیں، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

لاہور: سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے کہا ہے کہ تمام ججز نے آئین کے تحت بنیادی حقوق کے تحفظ کی قسم اٹھا رکھی ہے اور اگر انتخابات شفاف نہ ہوں تو جمہوریت کا وجود برقرار نہیں رہ سکتا۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی کسی بھی ریاست کی بنیاد ہے اور جب عدلیہ آزادی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیتی ہے تو ملک درست سمت میں آگے بڑھتا ہے۔

ثاقب نثار نے سوال اٹھایا کہ آیا ہم آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی اور اخلاقی فرض ادا کر رہے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت پانی کی شدید قلت جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے، جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

سابق چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آج شہریوں کو بنیادی حقوق حاصل نہیں ہو رہے تو پھر ان کے تحفظ کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، جبکہ تمام ججز بنیادی حقوق کے تحفظ کا حلف اٹھاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شفاف انتخابات کے بغیر جمہوریت ممکن نہیں اور کوئی بھی ریاست آئین کے بغیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے دورِ عدلیہ میں تمام فیصلے عوام کی فلاح اور مفاد عامہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے۔

Related posts

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی حملہ کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 سال قید اور فی کس 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی

پنجاب حکومت کے گلف اسٹریم G500 طیارے کی خریداری پر قانونی نوٹس، قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان