پنجاب حکومت کی جانب سے مبینہ طور پر 11 ارب روپے مالیت کا جدید کاروباری طیارہ گلف اسٹریم جی 500 خریدنے کے معاملے پر وزیراعلیٰ پنجاب کو قانونی نوٹس بھجوا دیا گیا ہے۔ نوٹس جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے معروف قانون دان اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے ارسال کیا۔
نوٹس میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ طیارے کی خریداری سے صوبائی خزانے پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا اور اس اقدام سے عوامی اعتماد مجروح ہوا ہے۔ نوٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس طیارے کو وی آئی پی اور لگژری استعمال کے لیے خریدا گیا، جبکہ حکومتی وضاحتیں حقائق کے برعکس ہیں۔
نوٹس کے متن کے مطابق:
• حکومت کی جانب سے ایئر پنجاب اور ایئر ایمبولینس منصوبے کے تحت طیارے کی خریداری کی وضاحتیں “بے بنیاد” ہیں۔
• رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ طیارہ اعلیٰ حکام کے خصوصی اور لگژری استعمال کے لیے خریدا گیا۔
• طیارے کی خریداری سے قبل نہ تو کابینہ سے باقاعدہ منظوری لی گئی اور نہ ہی پنجاب اسمبلی میں اس پر بحث کرائی گئی۔
• پیپرا پورٹل پر بھی اس خریداری کا مکمل ریکارڈ موجود نہیں، جو شفافیت کے اصولوں کے منافی ہے۔
مکمل ریکارڈ طلب
قانونی نوٹس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ:
1. طیارے کی خریداری کا مکمل ریکارڈ فراہم کیا جائے۔
2. خریداری کے اصل مقصد اور استعمال کی نوعیت واضح کی جائے۔
3. فنڈنگ کے ذرائع اور منظوری کے مراحل کی تفصیلات جاری کی جائیں۔
نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں مطلوبہ معلومات فراہم نہ کی گئیں تو معاملہ اعلیٰ عدلیہ میں لے جایا جائے گا۔
حکومتی مؤقف کیا ہے؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارہ ممکنہ طور پر صوبائی سطح پر ایمرجنسی سروسز، ایئر ایمبولینس اور سرکاری دوروں کے لیے استعمال کیا جانا تھا، تاہم اس حوالے سے باضابطہ تفصیلی پریس ریلیز تاحال سامنے نہیں آئی۔
سیاسی اور عوامی ردعمل
معاملہ سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ ناقدین اسے معاشی دباؤ کے دور میں غیر ضروری اخراجات قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر طیارہ عوامی خدمات، خصوصاً ایمرجنسی میڈیکل سہولتوں کے لیے ہے تو حکومت کو مکمل شفافیت کے ساتھ تفصیلات جاری کرنی چاہئیں۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر خریداری کے عمل میں پیپرا قوانین اور کابینہ کی منظوری کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے تو یہ معاملہ عدالتی جانچ کا باعث بن سکتا ہے۔