لاہور — پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو عوامی استحصال اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے آج Lahore High Court میں چیلنج کیا جا رہا ہے۔
یہ درخواست جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی جانب سے اس کے چیئرمین Muhammad Azhar Siddique ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان کے ذریعے دائر کی جا رہی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ مہنگائی کی نئی لہر پیدا کرے گا جس کے نتیجے میں ٹرانسپورٹ، بجلی، خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا اور اس کا براہ راست بوجھ عوام پر پڑے گا۔
درخواست میں یہ بھی نشاندہی کی جائے گی کہ یکم مارچ کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا چکا تھا اور اس کے فوراً بعد دوبارہ اضافہ کرنا عوام پر اضافی معاشی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا عدالت سے استدعا کی جائے گی کہ حالیہ قیمتوں میں اضافے کو فوری طور پر معطل کیا جائے جب تک اس کے قانونی اور معاشی جواز کا جائزہ نہ لیا جائے۔
درخواست میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے International Monetary Fund کے دباؤ یا شرائط کو بنیاد بنا کر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا عوامی مفاد اور آئینی ذمہ داریوں کے منافی ہے، کیونکہ ریاست کا بنیادی فریضہ اپنے شہریوں کے معاشی تحفظ اور بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔
مزید مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ ملک میں فروخت ہونے والی پیٹرولیم مصنوعات عموماً پہلے سے خریدے گئے اسٹاک سے فراہم کی جاتی ہیں، اس لیے نئی عالمی قیمتوں کا اطلاق اس وقت ہونا چاہیے جب نئی کھیپ زیادہ قیمت پر خریدی جائے۔ موجودہ اسٹاک پر فوری قیمتوں میں اضافہ شفافیت اور انصاف کے اصولوں کے خلاف ہے۔
درخواست میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ پیٹرولیم کمپنیوں نے ضابطوں کے مطابق کم از کم 15 دن کا لازمی پیٹرولیم ذخیرہ کیوں برقرار نہیں رکھا۔ اگر اس حوالے سے قواعد کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو متعلقہ کمپنیوں اور ذمہ دار حکام کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔
جوڈیشل ایکٹوازم پینل نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ قیمتوں میں حالیہ اضافے کو معطل کیا جائے، حکومت کو اس فیصلے کی بنیاد عوام کے سامنے واضح کرنے کا حکم دیا جائے اور پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کے نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو بلاجواز معاشی بوجھ سے بچایا جا سکے۔