ڈاکٹر وردہ قتل کیس: ایف آئی اے کو ملزمان کے خلاف کوئی مالی یا سائبر کرائم ریکارڈ نہ ملا

پشاور: ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں تفتیش کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پولیس کو اپنے تحریری جواب میں واضح کیا ہے کہ نامزد ملزمان کے خلاف کسی بھی قسم کے مالی، منی لانڈرنگ یا سائبر کرائم کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف آئی اے کی جانب سے پولیس کو ارسال کردہ خط میں بتایا گیا ہے کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں نامزد ملزمان عبدالوحید، ندیم اور ردا جدون کے خلاف نہ تو کوئی ایف آئی آر درج ہے، نہ ہی کوئی انکوائری یا تفتیش زیر التوا ہے۔ مزید یہ کہ ایف آئی اے کے پاس ملزمان سے متعلق کسی قسم کی خفیہ یا انٹیلی جنس معلومات بھی دستیاب نہیں ہیں۔

ایف آئی اے نے اپنے جواب میں یہ بھی وضاحت کی ہے کہ ادارے کے ریکارڈ میں ملزمان کے خلاف مشکوک مالی لین دین، منی لانڈرنگ یا کسی بھی مالی جرم کا کوئی ثبوت موجود نہیں ملا۔ تاہم، خط میں یہ عندیہ دیا گیا ہے کہ اگر پولیس کو ملزمان کے سفری ریکارڈ، واچ لسٹ یا اسٹاپ لسٹ سے متعلق معلومات درکار ہوں تو اس کے لیے ایف آئی اے ہیڈکوارٹر سے باضابطہ طور پر رجوع کیا جائے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر وردہ قتل کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں ڈی پی او ایبٹ آباد نے ایف آئی اے کو ایک خط ارسال کیا تھا، جس میں پولیس نے نامزد ملزمان کی مالی تفصیلات، ممکنہ مشکوک بینک ٹرانزیکشنز، سفری ریکارڈ اور واچ لسٹ اسٹیٹس سے متعلق معلومات طلب کی تھیں۔

پولیس حکام کے مطابق کیس کی تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے اور ایف آئی اے سے حاصل ہونے والی معلومات کو تفتیشی عمل کا حصہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ قتل کے پس پردہ حقائق اور ممکنہ محرکات تک پہنچا جا سکے۔

ڈاکٹر وردہ قتل کیس نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ صوبے بھر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ عوامی حلقے اس کیس میں شفاف اور جلد انصاف کے منتظر ہیں۔

Related posts

ٹانک میں پولیس پر دہشتگرد حملہ، بکتر بند گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے نشانہ بنایا گیا، 5 اہلکار شہید

گھوٹکی کے کچے میں بڑا آپریشن، ڈاکوؤں کے خاتمے کا دعویٰ، علاقے کلیئر قرار

اسلام آباد: خود کو امریکی سفارت خانے کا اہلکار ظاہر کرنے والا افغان شہری گرفتار