اترپردیش، بھارت: بھارتی ریاست اترپردیش میں بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کرنے اور ان کی تصاویر و ویڈیوز ڈارک ویب پر 47 ممالک میں فروخت کرنے والے میاں بیوی کو سزائے موت سنادی گئی۔ یہ فیصلہ بچوں کے تحفظ اور قانون کے نفاذ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جا رہا ہے۔
مقدمے کی تفصیلات
• مجرمان نے 10 سال کے عرصے میں 33 کم عمر لڑکوں کے ساتھ جنسی استحصال کیا۔
• متاثرین میں صرف 3 سال کے بچے بھی شامل تھے۔
• بچوں کو آن لائن ویڈیو گیمز، پیسے اور تحائف کے ذریعے قابو میں کیا گیا۔
• استحصال کی ویڈیوز اور تصاویر ڈارک ویب پر عالمی سطح پر فروخت کی گئیں (47 ممالک)۔
تشدد اور نقصان
عدالتی رپورٹ کے مطابق:
• بچوں پر شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا گیا۔
• بعض متاثرین کو اسپتال داخل کرانا پڑا، جبکہ کچھ بچوں میں مستقل جسمانی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔
پولیس تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ گھناؤنی کارروائیاں 2010 سے 2020 کے دوران جاری رہیں۔
تحقیقات کا آغاز
یہ نیٹ ورک اس وقت بے نقاب ہوا جب Interpol نے ڈارک ویب پر بچوں سے متعلق غیر قانونی مواد کی تحقیقات کی، جس کی اطلاع بھارتی تحقیقاتی ایجنسی CBI کو دی گئی۔
• دونوں کے خلاف اکتوبر 2020 میں مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت کا فیصلہ اور ہدایات
• مجرمان کو سزائے موت سنائی گئی۔
• عدالت نے اترپردیش حکومت اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کی:
• متاثرہ بچوں کی نفسیاتی بحالی اور علاج یقینی بنایا جائے۔
• ہر متاثرہ بچے کے اہل خانہ کو 10 لاکھ روپے مالی امداد فراہم کی جائے۔
• متاثرین کے لیے محفوظ مستقبل اور تحفظ کی مکمل ضمانت دی جائے۔
عدالت نے یہ فیصلہ بچوں کے تحفظ، والدین کے اعتماد اور قانون کے نفاذ کے لیے سخت پیغام کے طور پر دیا ہے۔
عالمی اور مقامی ردعمل
• بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے اس واقعے نے بھارت اور دنیا بھر میں تشویش پیدا کی۔
• قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ ڈارک ویب اور آن لائن استحصال کے خلاف سخت کارروائی کی علامت ہے۔
• پولیس اور عدلیہ کے اقدامات کو بچوں کے حقوق کے تحفظ میں مثال کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
آگے کا راستہ
متعلقہ محکمے بچوں کے تحفظ کے لیے اقدامات بڑھانے، والدین کی آگاہی اور آن لائن نگرانی کو مضبوط کرنے پر کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے نہ صرف مجرموں کے لیے سبق ہیں بلکہ مستقبل میں بچوں کے تحفظ کے لیے بھی اہم ہیں۔