لاہور: وزیر زراعت پنجاب سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت آج لاہور میں ایگریکلچر کمیشن کا خصوصی اجلاس منعقد ہوا، جس میں صوبائی اسمبلی کے ممبران، کسان تنظیموں کے نمائندے، ایکسپورٹرز، کاشتکاران اور دیگر سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔ اجلاس خاص طور پر آلو اور کینو کی برآمدات کے مسائل اور انہیں بہتر بنانے کے اقدامات پر مرکوز تھا۔
وزیر زراعت نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے مطابق آلو اور کینو کی ایکسپورٹ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ صوبہ ملک میں آلو اور کینو کی کل پیداوار کا 95 فیصد پیدا کرتا ہے۔
سید عاشق حسین کرمانی نے کہا کہ حکومت پنجاب کاشتکاروں کی محنت رائیگاں نہیں جانے دے گی اور ان کی مشکلات کو دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آلو اور کینو کی برآمدات کو بہتر بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ ایک مربوط حکمت عملی کے تحت برآمدات کو فروغ دیا جا سکے۔
وزیر زراعت نے اجلاس میں یہ بھی بتایا کہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے براہِ راست ایران کو آلو اور کینو برآمد کرنے کے لیے مال برداری کے اخراجات میں کمی کی استدعا کی ہے، تاکہ پاکستانی فصلیں بین الاقوامی منڈیوں میں زیادہ مسابقتی اور سستی ہوں۔
اجلاس میں شرکاء کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کو قابل عمل قرار دیتے ہوئے وفاقی حکومت سے رابطہ کرنے کی ہدایت کی گئی تاکہ برآمدات کے عمل کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔ سید عاشق حسین کرمانی نے زور دیا کہ آلو اور کینو کے کاشتکاروں کی محنت کو ملک و بیرون ملک مارکیٹ میں بہتر قیمت دلوانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔