لاہور: Board of Intermediate and Secondary Education Lahore (لاہور بورڈ) نے امتحانات کے طریقہ کار میں اہم تبدیلیوں کا اعلان کرتے ہوئے نویں جماعت کے پریکٹیکل پیپرز کی ای مارکنگ شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد امتحانی نظام میں شفافیت، نگرانی اور میرٹ کو یقینی بنانا ہے۔
پریکٹیکل امتحانات میں مرکزی مارکنگ
لاہور بورڈ کے سیکرٹری Rizwan Nazir نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پریکٹیکل امتحانات کے دوران انویجیلیٹرز کی جانب سے مس مینجمنٹ کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ اب:
• پریکٹیکل پیپر کے تھیوری حصے کی چیکنگ مرکزی مارکنگ سینٹر پر ہوگی
• پریکٹیکل امتحانات کی مکمل نگرانی کی جائے گی
• لیبارٹریز میں کیمرے نصب کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو روکا جا سکے
سیکرٹری کے مطابق پہلے پریکٹیکل لینے والے ایگزامنر کو مکمل 30 میں سے 30 نمبر دینے کا اختیار تھا، جس کے غلط استعمال کی شکایات سامنے آ رہی تھیں۔ اس اختیار کو محدود کرنے کے لیے اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔
وزیر تعلیم کی ہدایت پر اصلاحات
صوبائی وزیر تعلیم Rana Sikandar Hayat اور مزمل محمود کی ہدایت پر فوری اقدامات کیے گئے تاکہ پریکٹیکل امتحانات میں شفافیت لائی جا سکے۔
حکام کے مطابق اب پریکٹیکل مارکنگ کا عمل بھی سینٹرلائزڈ ہوگا اور امتحانی مراکز پر سخت نگرانی کی جائے گی۔
ای مارکنگ سسٹم کیسے کام کرے گا؟
رضوان نذیر کے مطابق ای مارکنگ کے تحت:
• طلبہ کو جوابات کے لیے مخصوص “ای شیٹ” دی جائے گی
• ہر سوال کے لیے علیحدہ جگہ مختص ہوگی
• پیپر بورڈ پہنچنے کے بعد اسکین کیا جائے گا
• اسکین شدہ پیپر کو مختلف سوالات کی بنیاد پر تقسیم کیا جائے گا
• ایگزامینرز کو آئی ڈی فراہم کی جائے گی
• ایگزامینرز گھر بیٹھے آن لائن پیپر چیک کر سکیں گے
انہوں نے مزید بتایا کہ ایگزامینرز کی رئیل ٹائم مانیٹرنگ کی جائے گی۔ اس نئے نظام کے تحت ایک ایگزامینر کو مکمل کاپی کے بجائے صرف مخصوص سوالات چیک کرنے کے لیے دیے جائیں گے، جس سے کام کا بوجھ کم اور معیار بہتر ہوگا۔
مرحلہ وار نفاذ
لاہور بورڈ کے مطابق:
• پورے پنجاب میں فرسٹ ائیر کے پہلے سالانہ امتحان میں آئی سی ایس (ICS) کا پیپر ای مارکنگ کے تحت لیا جائے گا
• آئندہ دو سے تین سالوں میں تمام پیپرز کو مرحلہ وار ای مارکنگ سسٹم پر منتقل کیا جائے گا
ممکنہ اثرات
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ای مارکنگ نظام سے:
• شفافیت میں اضافہ ہوگا
• نمبروں کی منصفانہ تقسیم یقینی ہوگی
• انسانی مداخلت اور غلطیوں میں کمی آئے گی
• امتحانی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال فروغ پائے گا
لاہور بورڈ کا یہ اقدام صوبے میں امتحانی اصلاحات کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طلبہ اور والدین کا اعتماد مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔