ممبئی: لیاری کے پس منظر میں فلمائی گئی مبینہ پروپیگنڈا فلم ’دھرندر‘ پر بھارتی حکومت کی جانب سے اعتراض سامنے آ گیا ہے، جس کے بعد فلمسازوں کو فلم کا نیا اور ترمیم شدہ ورژن ریلیز کرنے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔
بالی وڈ ہنگامہ کی رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سال میں رنویر سنگھ کی فلم ’دھرندر‘ دیکھنے والوں کو اب اپنی اصل شکل میں نہیں بلکہ ایک تبدیل شدہ ورژن میں دکھائی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق 31 دسمبر کو بھارت بھر کے سینما گھروں کو ڈسٹری بیوٹرز کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی، جس میں انہیں فلم کا ڈی سی پی (ڈیجیٹل سنیما پیکیج) تبدیل کرنے سے آگاہ کیا گیا۔ ای میل میں بتایا گیا کہ یہ تبدیلی بھارتی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے حکم پر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق فلم میں دو الفاظ کو Mute کیا گیا ہے جبکہ ایک ڈائیلاگ کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ سینما گھروں سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ فلم کا نیا ورژن ڈاؤن لوڈ کریں اور یکم جنوری 2026 سے صرف وہی ورژن نمائش کے لیے پیش کریں۔
انڈسٹری کے ایک اندرونی ذریعے نے بتایا ہے کہ فلم کے نئے ورژن سے ہٹائے گئے الفاظ میں سے ایک لفظ ’’بلوچ‘‘ ہے، تاہم دوسرے لفظ کے بارے میں تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں جن پر بھارتی حکام نے اعتراض اٹھایا۔
فلم پر حکومتی اعتراض اور ترمیم کے بعد ریلیز کیے جانے کے فیصلے نے بالی وڈ انڈسٹری میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جبکہ شائقین اب فلم کے تبدیل شدہ ورژن کے منتظر ہیں۔