کراچی: عالمی شہرت یافتہ پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر نے سوشل میڈیا پر حالیہ تنازع کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس معاملے کا کوئی علم نہیں اور نہ ہی وہ اس میں شامل تھیں۔
تنازع کا پس منظر
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب سابق ماڈل ماہ نور رحیم نے ہانیہ عامر پر مبینہ طور پر پروڈیوسر عمر مختار کی دوست ہونے کی بنیاد پر تنقید کی۔ ان پروڈیوسر پر ہراسانی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے، جس کے بعد سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی۔
ہانیہ عامر کا ردعمل
اداکارہ نے انسٹاگرام اسٹوری پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ:
“مجھے اس تنازع میں شامل ہونے یا علم ہونے کا کوئی تعلق نہیں۔ میں ہراسانی، استحصال اور کسی بھی ایسے رویے کے خلاف زیرو ٹالرنس رکھتی ہوں جو خواتین اور لڑکیوں کی حفاظت اور وقار کو متاثر کرے۔ یہ سنجیدہ مسائل ہیں جنہیں ہمیشہ احترام اور سنجیدگی کے ساتھ دیکھا جانا چاہیے۔”
خواتین کی حمایت اور محفوظ ماحول
ہانیہ عامر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ وہ پروڈیوسر کے خلاف آواز اٹھانے والی خواتین کی حمایت کرتی ہیں اور خواتین و بچیوں کے لیے محفوظ ماحول کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ متعلقہ فرد سے خود کو دور رکھنے کا فیصلہ کر چکی ہیں اور کسی کے اعمال کو دوسرے سے نہ جوڑا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ:
“میری وابستگی تمام صنعتوں اور کمیونٹیز میں جوابدہی، احترام اور محفوظ جگہوں کو فروغ دینے کے لیے ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ نقصان دہ رویے کو چیلنج کریں، بولنے والوں کی حمایت کریں، اور ایسے معیارات کو برقرار رکھیں جو ہر وقت خواتین اور لڑکیوں کے وقار کا تحفظ کرتے ہیں۔”
سوشل میڈیا پر اثر
ہانیہ عامر کے موقف نے ان کے فالوورز اور مداحوں کے درمیان مثبت ردعمل پیدا کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اداکاراؤں کا ایسے حساس موضوعات پر واضح مؤقف اختیار کرنا نہ صرف خواتین کے وقار کے لیے اہم ہے بلکہ معاشرتی سطح پر آگاہی بڑھانے اور ہراسانی کے خلاف ثقافت قائم کرنے میں مددگار بھی ہے۔
ہانیہ کے اس بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی شبیہ اور اثرورسوخ کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہوئے صنفی مساوات اور محفوظ ماحول کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔