دبئی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں 2025 کے پہلے 9 ماہ میں 495.87 ارب درہم کے سودے

دبئی: دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ نے 2025 کے ابتدائی 9 ماہ میں بھی تیزی کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔ دبئی لینڈ اینڈ پراپرٹی ڈیپارٹمنٹ (DLD) کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری تا ستمبر 2025 کے دوران 1,57,302 جائیدادوں کے سودے ریکارڈ ہوئے جن کی مجموعی مالیت 495.87 ارب درہم (تقریباً 38.01 کھرب پاکستانی روپے) رہی۔

اعداد و شمار کی تفصیل
• 1,26,345 یونٹس کے سودے
• 9,736 عمارتوں کی خرید و فروخت
• 21,221 زمینوں کے لین دین

سب سے نمایاں علاقے
• بزنس بے: سب سے آگے رہا، صرف پہلی سہ ماہی میں 5,704 نئے فلیٹس کے سودے ہوئے جن کی مالیت 13.10 ارب درہم (تقریباً 1,004 ارب روپے) رہی۔
• برج خلیفہ ڈسٹرکٹ (ڈاؤن ٹاؤن): یہاں 2,020 فلیٹس کی دوبارہ فروخت ہوئی جن کی مالیت 8.14 ارب درہم (تقریباً 624 ارب روپے) رہی۔ عالمی پہچان اور پرتعیش معیار کی بدولت یہ اب بھی سرمایہ کاروں کی اولین پسند ہے۔
• جمیرا ولیج سرکل (JVC): لین دین کی تعداد کے لحاظ سے سب سے آگے رہا، جہاں 7,185 نئے فلیٹس کے سودے ہوئے جن کی مجموعی مالیت 7.89 ارب درہم (تقریباً 604 ارب روپے) ریکارڈ کی گئی۔ یہ علاقہ معتدل قیمتوں اور فیملی فرینڈلی ماحول کے باعث خاص طور پر متوسط طبقے کے خریداروں کے لیے پرکشش ہے۔

پاکستانی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی

شفاف قوانین، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور ٹیکس فری ماحول نے دبئی کو دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز بنایا ہے، جن میں پاکستانی سرمایہ کار بھی نمایاں ہیں۔

آئندہ رجحان

ماہرین کے مطابق 2025 کی آخری سہ ماہی میں بھی دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں تیزی برقرار رہنے کا امکان ہے۔ نئی ترقیاتی اسکیمیں، ویزہ اصلاحات اور عالمی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی اس رجحان کو مزید مضبوط بنائے گی۔

Related posts

امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ: بھارتی کسان تنظیموں کا ملک گیر احتجاج اور 12 فروری کی ہڑتال کا اعلان

مغربی کنارے کی صورتحال پر عالمی ردعمل تیز، امریکا، برطانیہ اور مسلم ممالک کے بیانات سامنے آگئے

پاک بھارت میچ پر ڈیڈ لاک ختم، بی سی سی آئی نائب صدر راجیو شکلا نے مذاکراتی عمل کو آئی سی سی کی بڑی کامیابی قرار دے دیا