واشنگٹن: امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے دور میں امیگریشن قوانین میں مزید سختی لانے کی تیاری کی گئی تھی، جس کے تحت ذیابیطس (Diabetes) اور موٹاپے (Obesity) جیسی دیرینہ بیماریوں میں مبتلا افراد کو امریکی ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی وزارتِ خارجہ نے دنیا بھر میں موجود امریکی سفارتخانوں اور قونصل خانوں کو نئی ہدایات جاری کی ہیں۔
اس سے قبل ویزا درخواست گزاروں کی صحت کی جانچ پڑتال کے دوران زیادہ تر متعدی بیماریوں جیسے ٹی بی (Tuberculosis) کی اسکریننگ کی جاتی تھی، تاہم اب فہرست میں مزید بیماریاں شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کس بنیاد پر ویزا مسترد ہوسکتا ہے؟
رپورٹس کے مطابق:
• ویزا افسران اب یہ دیکھیں گے کہ درخواست دہندہ طویل مدتی بیماری میں مبتلا ہے یا نہیں۔
• اگر مریض امریکا میں داخل ہوا تو کیا اس کے علاج کا خرچ حکومت پر پڑے گا؟
• اگر ممکنہ طور پر وہ حکومتی وسائل پر انحصار کرنے کے قابل ہو تو ویزا مسترد کیا جا سکتا ہے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ذیابیطس، دل کی بیماریاں، سانس کے امراض، کینسر، اعصابی بیماریاں، میٹابولک ڈس آرڈرز اور ذہنی صحت کے مسائل حکومت کے لیے بھاری اخراجات کا باعث بنتے ہیں۔
اسی طرح شدید موٹاپہ دمہ، نیند کی رکاوٹ (Sleep Apnea)، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریوں کا سبب بنتا ہے، جن کے لیے طویل مدتی علاج درکار ہوتا ہے۔
کیا مریض اپنا علاج خود کر سکتا ہے؟
نئی ہدایات کے مطابق ویزا افسران کو یہ بھی پرکھنا ہوگا کہ:
• کیا درخواست دہندہ امریکا میں اپنا علاج اپنی جیب سے کر سکتا ہے؟
• کیا وہ امریکی حکومت سے مالی مدد طلب کرے گا یا نہیں؟
• خاندان کے دیگر افراد کی صحت کا ریکارڈ بھی چیک کیا جائے گا۔
کیا یہ قانون نافذ ہوگیا ہے؟
امریکی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر باضابطہ بیان جاری نہیں کیا، لہٰذا یہ واضح نہیں کہ یہ قوانین عملی طور پر نافذ ہو چکے ہیں یا ابھی مشاورت کے مرحلے میں ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اصول مکمل طور پر لاگو ہوگئے تو دنیا بھر سے امریکا منتقل ہونے کے خواہشمند ہزاروں افراد متاثر ہو سکتے ہیں