جدہ: سعودی عرب کے وزیر صحت فہد الجلاجل نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ حج سیزن میں میڈیکل سہولیات کو مزید مؤثر اور تیز بنانے کے لیے ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال کو بڑھایا جائے گا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے حج کے دوران دوائیں اور بلڈ سیمپلز قریبی مراکز تک صرف چند منٹوں میں منتقل کیے جا سکیں گے۔
جدہ میں حج و عمرہ کانفرنس و نمائش کے پانچویں ایڈیشن میں خطاب کرتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ مملکت عازمین حج کی صحت کو ہمیشہ اولین ترجیح دیتی ہے اور آج بھی وہی خدماتی نظام جاری ہے جو بانی مملکت شاہ عبدالعزیز نے 1952 میں وضع کیا تھا۔ اُس وقت ڈاکٹروں کی قلت کے باوجود ہر حج مشن میں ڈاکٹر کی تعیناتی کو لازم قرار دیا گیا تھا۔
وزیر صحت نے بتایا کہ وژن 2030 کے تحت حج خدمات کے معیار کو مزید بلند کیا جا رہا ہے، اور متعدد سرکاری ادارے ’’خدمتِ ضیوف الرحمان‘‘ پروگرام کے تحت مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں تاکہ عازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
فہد الجلاجل نے مزید کہا کہ حج سیزن میں درپیش موسمی، ماحولیاتی اور وبائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پہلے سے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اسی سلسلے میں ڈرون نیٹ ورک میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق:
• روایتی گاڑیوں کے ذریعے میڈیسن یا سیمپلز کی ترسیل میں ڈیڑھ سے تین گھنٹے لگتے ہیں۔
• جبکہ ڈرون کے ذریعے یہی عمل 5 سے 10 منٹ میں مکمل ہو جائے گا۔
یہ اقدام عاجل طبی خدمات کو تیز تر کرنے اور حجاج کے علاج و دیکھ بھال کے معیار کو مزید بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔