بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان نے ملکی دفاعی صنعت پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وقت پر معاہدے پورے نہ کرنے سے نہ صرف صنعتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے بلکہ قومی سلامتی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
ایک تقریب سے خطاب میں جنرل چوہان نے کہا، “آپ معاہدہ کر کے وقت پر ڈیلیور نہ کریں، یہ ہماری صنعتی صلاحیت کا نقصان ہے۔ صنعت کو مقامی صلاحیت کے بارے میں سچ بولنا ہوگا کیونکہ اس کا تعلق قومی سلامتی سے ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ دفاعی اصلاحات یکطرفہ نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری ہیں، اور وہ توقع کرتے ہیں کہ صنعت اپنی منافع کمانے والی سرگرمیوں میں کچھ قومیت اور حب الوطنی بھی دکھائے۔
جنرل چوہان نے واضح کیا کہ بہت سی کمپنیاں دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کی مصنوعات 70 فیصد مقامی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ علاوہ ازیں، بین الاقوامی معیار کے حساب سے ان کی قیمتیں بھی زیادہ ہیں، جو ملکی دفاعی سیکٹر کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
ان کے اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اپنی دفاعی صنعت کی مقامی صلاحیت کو مضبوط بنانے اور وقت پر معاہدے کی تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کی راہ پر گامزن ہے۔