برطانیہ میں ایک نیا اصلاحی منصوبہ متعارف کرایا گیا ہے جس کے تحت تارکین وطن کے لیے مستقل پناہ ختم کر دی گئی ہے اور انہیں اس وقت تک صرف عارضی رہائش دی جائے گی جب تک کہ ان کا اپنے ملک واپس جانا محفوظ نہ ہو۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق، پناہ گزینوں کو طویل مدتی رہائش کے لیے درخواست دینے کے لیے اب 20 سال انتظار کرنا ہوگا، جو موجودہ 5 سالہ مدت سے چار گنا زیادہ ہے۔ ہوم آفس نے اعلان کیا ہے کہ پناہ گزین کے اسٹیٹس کی مدت کم کر کے 30 ماہ کر دی جائے گی۔
وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ برطانیہ میں غیر قانونی طور پر آنے والوں کی تعداد کو کم کرنا ضروری ہے اور جن افراد کا یہاں رہنے کا حق نہیں ہے، انہیں زیادہ سے زیادہ تعداد میں واپس بھیجا جائے گا۔
اس جدید اصلاحات میں مخصوص پناہ گزینوں کو قانونی طور پر فراہم کی جانے والی مدد، بشمول رہائش اور ہفتہ وار الاؤنس، ختم کر دی جائے گی۔ یہ اقدامات اُن افراد پر لاگو ہوں گے جو کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر کام نہیں کرتے، یا قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ وزارت کے مطابق، ٹیکس دہندگان کے پیسے سے فراہم کی جانے والی مدد اُن افراد کو ترجیحاً دی جائے گی جو معیشت اور مقامی برادری میں حصہ ڈال رہے ہوں۔
رائے عامہ کے جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ امیگریشن اب برطانیہ میں معیشت سے بھی بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ مارچ 2025 تک 109,343 افراد نے پناہ کی درخواست دی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ اور 2002 کے ریکارڈ سے 6 فیصد زیادہ ہے۔
یہ اصلاحات ڈنمارک کے طریقہ کار سے متاثر ہیں، جسے یورپ کی سخت ترین پالیسیوں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم حقوقِ انسانی کی تنظیموں کی جانب سے اس پر سخت تنقید بھی کی گئی ہے۔