ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا سے مذاکرات کو ’بے معنی‘ قرار دینے کا بیان

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا برابری اور منصفانہ بنیادوں پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں، امریکی صرف اپنی شرائط مسلط کرنا چاہتے ہیں، اس لیے ایسے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ ایران صرف باوقار اور باہمی مفادات پر مبنی مذاکرات کو قبول کرے گا اور کسی بھی قسم کی ڈکٹیشن برداشت نہیں کی جائے گی۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور تمام ایٹمی تنصیبات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کی نگرانی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ایران میں کسی مقام پر یورینیم کی افزودگی نہیں ہو رہی۔

دوسری جانب امریکا نے ایران کے میزائل اور ڈرون پروگرام سے منسلک 32 افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ نیٹ ورک مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کی دو بڑی آئل کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ یہ پابندیاں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ’معقول رویہ‘ اختیار کرنے پر مجبور کریں گی اور روسی تیل پر پابندی زیادہ دیر برقرار رکھنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ پیوٹن سے بات چیت ہمیشہ مثبت رہتی ہے، لیکن نتیجہ خیز نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق روسی صدر سے ہونے والی ملاقات اس لیے منسوخ کی گئی کیونکہ انہیں وہ ملاقات ’مناسب‘ نہیں لگی۔

Related posts

روس کے صدر پیوٹن کا 4 سے 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ، دفاعی تعاون پر بات چیت متوقع

روس کی جانب سے واٹس ایپ کو مکمل بلاک کرنے کی دھمکی

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد؛ دو سال میں 1,030 فلسطینی شہید — اقوام متحدہ