بنگلا دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل کا بڑا فیصلہ شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت

بنگلا دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹریبونل (ICT) نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت سنائی ہے۔

یہ فیصلہ تین رکنی بینچ (جسٹس محمد غلام مرتضیٰ کی سربراہی) نے سنایا ہے، اور عدالتی فیصلہ تقریباً 453 صفحات پر مشتمل ہے۔

الزامات اور پس منظر
• استغاثہ کا کہنا ہے کہ شیخ حسینہ نے 2024 میں طلبہ تحریک (جسے “جولائی انقلاب” کہا جاتا ہے) کے دوران سخت کریک ڈاؤن کے احکامات دیے تھے، اور اس کریک ڈاؤن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔
• عدالت نے بتایا ہے کہ ان الزامات میں قتل، بے رحمی، تشدد اور غیر انسانی رویوں جیسے جرائم شامل ہیں۔
• استغاثہ کی طرف سے ناظمِ مقدمہ محمد تاجُول اسلام نے موت کی سزا کی درخواست کی تھی، اور ان کا موقف ہے کہ تقریباً 1,400 افراد ہلاک ہوئے، جن کی بنیاد پر زیادہ سے زیادہ سزا درکار ہے۔
• عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ حسینہ نے ڈرونز، ہیلی کاپٹرز اور میانہ اور مہلک ہتھیاروں کے استعمال کی اجازت دی تھی۔

قانونی اور سیاسی تناظر
• شیخ حسینہ اس وقت بنگلا دیش میں موجود نہیں ہیں؛ وہ اگست 2024 میں ملک چھوڑ چکی تھیں اور بھارت میں پناہ گزین ہیں۔
• وہ مقدمے کو من پسند اور سیاسی مقاصد پر مبنی قرار دیتی رہی ہیں۔
• بنگلا دیش کی عبوری حکومت، جس کی قیادت نوبل انعام یافتہ محمد یونیوس نے کی، ان کی سزا کو ایک بڑے احتساب کا حصہ قرار دیتی ہے۔
• ملک میں فیصلے کے دوران سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، اور عدالت کے قریبی علاقوں میں پولیس، فوج اور پیراملٹری فورسز تعینات تھیں۔

Related posts

روس کے صدر پیوٹن کا 4 سے 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ، دفاعی تعاون پر بات چیت متوقع

روس کی جانب سے واٹس ایپ کو مکمل بلاک کرنے کی دھمکی

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد؛ دو سال میں 1,030 فلسطینی شہید — اقوام متحدہ