نیویارک/نئی دہلی: آزاد خارجہ پالیسی کے دعوے دار بھارت نے روس سے تیل خریدنے کی پالیسی پر یو ٹرن لے لیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی کمپنیوں کے 10 سالہ روسی تیل معاہدے امریکی پابندیوں کے سامنے بے اثر ہو گئے، اور بھارتی صنعتکار مکیش امبانی کی ریلائنس کمپنی نے بھی روسی تیل کی خریداری بند کر دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق یکم دسمبر سے بھارتی ریفائنریز غیر روسی خام تیل پر کام کریں گی، اور ریلائنس کو مشرق وسطیٰ یا ممکنہ طور پر امریکا سے مہنگا تیل خریدنا پڑے گا۔ امریکی ماہرین نے اس فیصلے کو واشنگٹن کے لیے اہم رعایت قرار دیا ہے۔
اخبار کے مطابق بھارت نے برسوں روسی تیل سے اربوں ڈالر کمائے، لیکن ٹرمپ انتظامیہ کے 50 فیصد ٹیرف کے خطرے کے پیش نظر مودی حکومت نے روسی تیل کی خریداری روکنے کا فیصلہ کیا۔ روسی تیل کے سودوں کی مالیت ایک بھارتی کمپنی کے لیے 33 ارب ڈالر سے زائد تھی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کر دیا تھا کہ روسی تیل کے سلسلے میں تعاون جاری رکھنے کی صورت میں امریکا-بھارت تجارتی معاہدے پر پیشرفت ممکن نہیں ہو گی۔ اس فیصلے سے بھارت کی خارجہ پالیسی پر امریکی دباؤ کا اثر عیاں ہو گیا ہے۔