آئی ایم ایف کی پاکستان کو نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن اداروں میں جامع اصلاحات کی سفارش

اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں کرپشن کے خاتمے اور شفافیت کے فروغ کے لیے نیب، ایف آئی اے اور صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹس میں وسیع پیمانے پر اصلاحات اور ادارہ جاتی خودمختاری کی سفارش کی ہے۔

آئی ایم ایف کی جاری کردہ گورننس و کرپشن رپورٹ کے مطابق ملک میں بدعنوانی کےخلاف مؤثر کارروائی کے لیے احتسابی اداروں کو سیاسی مداخلت سے مکمل طور پر آزاد کیا جانا ضروری ہے۔ رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ:
• نیب اور صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو حقیقی خودمختاری دی جائے۔
• نیب کے چیئرمین کی تعیناتی کے طریقہ کار کو مزید شفاف اور مؤثر بنایا جائے۔
• اعلیٰ سطح کی کرپشن کی تحقیقات کو مضبوط کرنے کے لیے اداروں کی تکنیکی اور تحقیقاتی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے۔
• احتساب کے اپنے اندرونی نظام کو مضبوط بنا کر اداروں میں جوابدہی کو یقینی بنایا جائے۔

سینئر سرکاری افسران کے اثاثے ڈیجیٹائز کرنے کی تجویز

رپورٹ میں پاکستان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثوں، اختیارات اور مالی وسائل کی مکمل اور بروقت تفصیلات جمع کرنے، ڈیجیٹائز کرنے اور عوام کے سامنے ظاہر کرنے کے لیے:

ایف بی آر، پارلیمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن پر مشتمل ایک مرکزی اتھارٹی قائم کی جائے۔

اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کی ضرورت

آئی ایم ایف نے سفارش کی ہے کہ بدعنوانی، مشکوک ٹرانزیکشنز اور مالی بے ضابطگیوں کی مؤثر نشاندہی کے لیے:
• نیب، ایف آئی اے، صوبائی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹس، آڈیٹر جنرل اور ایف بی آر کے درمیان اطلاعات کے تبادلے کا مضبوط نظام قائم کیا جائے۔
• رسک بیسڈ اپروچ کے تحت کرپشن کے بڑے معاملات کی چھان بین کو ترجیح دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان احتسابی اداروں میں اصلاحات اور شفافیت کے اقدامات پر عملدرآمد تیز کرے تو کرپشن کے خلاف قومی حکمت عملی زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

Related posts

روس کے صدر پیوٹن کا 4 سے 5 دسمبر کو بھارت کا دورہ، دفاعی تعاون پر بات چیت متوقع

روس کی جانب سے واٹس ایپ کو مکمل بلاک کرنے کی دھمکی

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد؛ دو سال میں 1,030 فلسطینی شہید — اقوام متحدہ