ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے بینک لاکرز سے تقریباً 9.7 تا 10 کلو گرام سونا ضبط کر لیا گیا ہے، جس کی مالیت تقریباً 1.3 ملین ڈالر (تقریباً 13 لاکھ ڈالر) بتائی جا رہی ہے۔
تفصیلاتِ خبر
• حکام نے بتایا ہے کہ یہ سونا بینک لاکرز — لاکر نمبر 751 اور 753 — سے برآمد ہوا، جنہیں ستمبر میں ضبط کیا گیا تھا۔
• برآمد شدہ سونے میں سونے کی لاٹیں، سکے اور زیورات شامل تھے۔
• تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ شیخ حسینہ نے اقتدار کے دوران جو تحائف وصول کیے تھے، ان میں سے کچھ ریاستی خزانے (توشہ خانہ) میں جمع نہیں کروائے تھے، جیسا قانون ہوتا ہے۔
• اس حوالے سے ٹیکس چوری اور مالی بے ضابطگیوں کی بھی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔
پس منظر و موجودہ سیاسی تناظر
• سابق حکومت کے خاتمے اور اقتدار کی تبدیلی کے بعد، بنگلہ دیشی حکام نے شیخ حسینہ اور ان کے خاندان کی مختلف بینک اکاؤنٹس اور لاکرز کو ضبط کرنا شروع کر دیا تھا۔
• رواں ماہ ایک بین الاقوامی جرائم عدالت نے انہیں “انسانیت کے خلاف جرائم” کے مقدمات میں سزائے موت سنائی تھی، اور ان کی تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔
• اب جب بینک لاکرز سے سونا برآمد ہوا ہے تو یہ کیس مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے.
اگلے ممکنہ اقدامات
• ضبط شدہ سونے اور دیگر جائداد کو ریاستی خزانے کے حوالے کرنے کی کارروائی متوقع ہے۔
• ٹیکس اور مالی بے ضابطگیوں کی چھان بین جاری ہے، تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا دیگر بینک اکاؤنٹس یا املاک بھی ضبط کی جائیں گی۔
• سیاسی مباحثے میں اس خبر کو وسیع پیمانے پر موضوعِ بحث بنانے کی توقع ہے، خاص طور پر ان معاملات پر جہاں تحائف اور سرکاری عہدے کے دوران ملنے والی آمدنی کی جائیداد کے حقوق کا سوال ہو۔
یہ واقعہ بنگلہ دیش کی سیاسی تاریخ اور بدعنوانی کے خلاف جاری تحقیقات میں ایک نیا موڑ ہے، جس نے سابق وزیرِ اعظم کی دولت اور اثاثوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی ہے.