افغانستان میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں غیر معینہ مدت کے لیے معطل

کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی تاحکمِ ثانی معطل کر دی ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق یہ حکم تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں پر لاگو ہوگا۔

افغان میڈیا نے طالبان کی وزارتِ خزانہ کے ایک عہدیدار سمیت مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ اس فیصلے سے متعلق تاحال کوئی سرکاری وضاحت جاری نہیں کی گئی۔ طالبان حکام نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا بھی فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

رپورٹس کے مطابق اگرچہ ماضی میں بھی سرکاری ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر کا سامنا رہا ہے، تاہم یہ پہلا موقع ہے کہ تنخواہوں کی ادائیگی کو باضابطہ طور پر بغیر کسی متعین تاریخ کے مکمل طور پر معطل کیا گیا ہے۔

کچھ سرکاری ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک نہایت مشکل وقت میں کیا گیا ہے، جب سردیوں کے باعث بیشتر خاندان شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک سرکاری ملازم نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگرچہ سرکاری تنخواہیں اور مراعات محدود ہیں، لیکن ان کی ادائیگی سے کم از کم گھر کا کرایہ اور بنیادی گھریلو ضروریات پوری ہو جاتی تھیں۔

واضح رہے کہ افغانستان 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔ ملک کو بجٹ کی کمی، بین الاقوامی امداد میں نمایاں کمی، بینکاری نظام پر پابندیوں اور عالمی فنڈنگ میں رکاوٹوں جیسے مسائل کا سامنا ہے، جس کے باعث سرکاری شعبے کے ملازمین سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق تنخواہوں کی ادائیگی کی معطلی سے نہ صرف سرکاری ملازمین بلکہ مجموعی طور پر ملک کی معیشت اور عوامی خدمات پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

Related posts

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم

کشیدگی کے دوران ایران نے فضائی حدود عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی، فضائی آپریشن بحال

امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فیصلہ کن حملے کے اشارے، اسرائیل میں ہنگامی دفاعی تیاریاں، یورپی ممالک کا اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز