تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی پر عملدرآمد شروع

بینکاک/پنوم پنھ: تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان طویل کشیدگی کے بعد جنگ بندی پر عملدرآمد کا آغاز ہو گیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ بندی تین روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد طے پائی۔

رپورٹ کے مطابق جنگ بندی ہفتے کے روز مقامی وقت کے مطابق شام 5 بجے نافذ ہوئی۔ دونوں ممالک کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں فوری جنگ بندی، فوجیوں کی تمام نقل و حرکت منجمد کرنے اور سرحدی علاقوں سے بے گھر ہونے والے شہریوں کو اپنے گھروں کو واپس جانے کی اجازت دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک تخریب کاری اور سائبر کرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر بھی متفق ہو گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ بندی کے 72 گھنٹے مکمل ہونے کے بعد تھائی لینڈ کی حراست میں موجود کمبوڈیا کے 18 فوجیوں کو رہا کر دیا جائے گا، جو جولائی سے زیرِ حراست ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ 20 روز سے جاری سرحدی جھڑپوں اور لڑائی کے نتیجے میں کم از کم 101 افراد ہلاک جبکہ 50 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان تنازع کیا ہے؟

تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان تنازع ایک صدی سے زائد عرصے پرانا ہے، جو 817 کلومیٹر طویل زمینی سرحد کے مختلف غیر واضح حصوں پر خودمختاری سے متعلق ہے۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب فرانس، جو 1953 تک کمبوڈیا پر قابض رہا، نے سرحدی حدود کا تعین کیا تھا، جس پر بعد ازاں اختلافات پیدا ہوئے۔

سرحدی تنازع وقتاً فوقتاً شدت اختیار کرتا رہا ہے اور اکثر قوم پرستانہ جذبات نے کشیدگی میں مزید اضافہ کیا۔ رواں سال مئی میں کشیدگی اس وقت دوبارہ بڑھی جب ایک متنازع علاقے میں دونوں ممالک کی افواج کے درمیان فائرنگ کا مختصر تبادلہ ہوا، جس میں ایک کمبوڈین فوجی ہلاک ہو گیا۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کیے۔ تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کے ساتھ سرحدی پابندیاں عائد کیں، جبکہ کمبوڈیا نے تھائی فلموں کی نشریات پر پابندی لگا دی، پھل اور سبزیوں کی درآمد روک دی اور تھائی لینڈ سے آنے والی انٹرنیٹ بینڈوڈتھ میں کمی کر دی۔

مبصرین کے مطابق حالیہ جنگ بندی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم دیرپا امن کے لیے سرحدی تنازع کا مستقل حل ناگزیر قرار دیا جا رہا ہے۔

Related posts

ایران پر ممکنہ امریکی حملہ: نیتن یاہو کی ٹرمپ سے تاخیر کی درخواست، خلیجی ممالک کی سفارتکاری بھی سرگرم

کشیدگی کے دوران ایران نے فضائی حدود عارضی بندش کے بعد دوبارہ کھول دی، فضائی آپریشن بحال

امریکا کی جانب سے ایران پر ممکنہ فیصلہ کن حملے کے اشارے، اسرائیل میں ہنگامی دفاعی تیاریاں، یورپی ممالک کا اپنے شہریوں کے انخلا کا عمل تیز